janab hpzur ki masnawi shahado shir

  • Home
  • janab hpzur ki masnawi shahado shir

janab hpzur ki masnawi shahado shir

image

ڈاکٹر محمد امجدرضاامجدؔ
قاضی شریعت مرکزی ادارہ شرعیہ بہار پٹنہ

   جنابحضور کی مثنوی شہدوشیر: ایک مطالعہ
     
    شمالی ہند کے صوبۂ بہار میں خانقاہ معظم، بہار شریف، جس کے بانی حضرت مخدوم جہاں شیخ شرف الدین احمد یحییٰ منیری علیہ الرحمۃ والرضوان ہیں، اپنی روحانی عظمتوں کے ساتھ ساتھ خدمت خلق اور تبلیغ دین کی حیثیت سے کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ مرور ایام اور امتداد زمانہ کے باوجود تیرھویں چودھویں صدی ہجری میں آپ کے23ویں سجادہ نشیں جنابحضور شاہ امین احمد فردوسی کی ذات ہر اعتبارسے اسلاف کا نمونہ اور خاص طور سے مخدوم جہاں کی سیرت و کردار اور علم   و عمل کی مظہر تھی۔ یہی وجہ ہے کہ 1418ھ/1900ء میں پٹنہ کے اندر ااہل سنت کی عظیم الشان ملک گیردینی کانفرنس منعقد ہوئی تو سینکڑوں اکابر علماء و مشائخ نے متفقہ طور پر اس کی صدارت کے لیے آپ کے نام نامی کا انتخاب فرمایا۔ امام احمد رضا بریلوی علیہ الرحمۃ نے آپ کی شان میں قصیدہ کہا:
بقیۃ الاولیا امین احمد

امین احمد امن حمود
    ( بقیۃ الاولیا امین احمد قابل تعریف امانتدار بلکہ خود امن اور تعریف ہیں۔)
شمائلہ تذکر نا الصحابہ

سحائبہ علی  کل تجود
    (آپ کے خصائل ہمیں صحابہ کی یاد د لاتے ہیں۔ آپ کے بادل سب پر برستے ہیں۔)
    آپ نے اپنے دور میںخدمت دین اور اصلاح فکر اعتقادکی جو کوششیں کی ہیں وہ آب زر سے لکھنے کے لائق ہیں۔ آپ کا شمار حق کی اس جماعت میں ہوتا ہے جس کی زندگی رشدو ہدایت کا سر چشمہ اور حرکت و عمل سے عبارت ہے۔ علم و فن، مذہب و ادب، سیرت وکردار ہر زاویے سے آپ اس نسبت و رفعت کے حامل تھے کہ آپ کومایۂ افتخار سمجھا جائے، آپ کے نقش قدم کو مشعل راہ بنایا جائے اور آپ کے اثاثۂ فکر و عمل کو زندہ و تابندہ کیا جائے۔
    جنابحضور کو حضرت مخدوم جہاں علیہ الرحمۃ والرضوان کے علم و معرفت، جذبۂ تبلیغ اور جوش جہاد کا وافر حصہ عطا ہوا تھا اور یہ بھی حق ہے کہ آپ نے حضرت مخدوم جہاں رحمۃ اللہ علیہ     کے اس علمی و روحانی ورثہ کو تقسیم کرنے میں فیاضی سے کام لیا۔ آپ نے اس مزاج کی پاسداری کی جو خانقاہوں کی روحانی شناخت ہے۔ اس جذبے کی آبیاری کی جواہل خانقاہ کا حصہ ہے۔ اس مشن کو زندہ رکھا جو حضرت مخدوم جہاں کی روایت ہے   مثنوی شھدوشیر آپ کے اسی جذبے کی غماز اور اسی فکر کی مظہر ہے جس میں ادب کی دلکشی، شریعت کا وقار، معرفت کی چاشنی اور تصوف کی بادیہ پیمائی سبھی کچھ ہے۔
    یہ مثنوی کتابی شکل میں 12صفحات پر مشتمل ہے اور اگرچہ یہ مطبوع ہے مگر اس قدر نادر و کمیاب ہے کہ اسے نیم مخطوطہ کہنا زیادہ مناسب رہے گا۔ اس پر سن طباعت درج نہیں ہے مگر آخری صفحہ کے اندراج سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مثنوی مطبع شرف پریس، بہار شریف میں طبع ہوئی    شھدوشیر دو حصوں میں تقسیم ہے۔ پہلا حصہ صفحہ1سے7کے نصف تک ہے۔ اس میں 272اشعار ہیں اور پھر دیگر کی سرخی کے ساتھ دوسرا حصہ سامنے آتا ہے جس میں 74اشعار ہیں، مگر یہ حصہ پہلے حصے کے مباحث کی تلخیص ہے  اگر موضوعاتی اعتبار سے اس کا جائزہ لیا جائے تو اس مثنوی میں مندرجۂ ذیل عناوین بھی مسکراتے نظر آئیں گے:
    (1)    صوفی، شریعت اور تصوف    (2)    اہل خانقاہ اور احقاق حق
    (3)    رافضیت اور، ناجیت پر برجستہ تنقید    (4)    علم سینہ اور علم سفینہ کا فرق اور اول الذکر کی اہمیت
    ان موضوعات کے ساتھ ساتھ اسالیب زبان و بیان کے اعتبار سے بھی اس مثنوی کی اہمیت قابل التفات ہے کہ یہ ہندوستان خصوصاً بہار میں انیسویں، بیسویں صدی کے صوفیہ کی فارسی شاعری کا ایک تاریخی نمونہ ہے اور روایت و درایت، تلمیح و کنایہ، استعارہ و تمثیل تمام جلوے اس میں سمٹ آئے ہیں۔
    یہ مثنوی، مثنوی نان و پنیر کا جواب ہے جس میں نان و پنیر کے خالق نے صوفیۂ کرام، ان کے سماع و رقص اور حال و وجد کو ہدف تنقید بنایا تھا۔ نان و پنیر کے اشعار ہیں    ؎
در رہ شرع متین مسرور باش

از طریق صوفیانہ دور باش
رقص باشد در طریقِ شان روا

بر زبانہامن خدایم من خدا
در عبادت لہو بازی می کند

ذکر حق، بانغمہ سازی می کند
الحذر زین فرقۂ باطل حذر

الحذر زین مرشد جاہلِ حذر
    ان اشعار میں بنیادی اعتبار سے رقص و سماع، اور حال و وجد کو نشانۂ تنقید بنایا گیا ہے اور ان کے حاملین کو جاہل اور فرقۂ باطل سے تعبیر کرتے ہوئے ان سے الگ رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔ جنابحضور ثباتؔ فردوسی نے مثنوی ہی کے فارم میں اس کا جواب منطوم کیا ہے۔ یہ مثنوی، مثنوی مولانا روم کی بحر رمل مسدس مخدوف میں ہے۔ بظاہر اس مثنوی کی کوئی کہانی نہیں ہے، ہاں اس کے پہلے شعر کو کہانی پر محمول کیا جا سکتا ہے   ؎
دوش دیدم ناگہان یک مثنوی

کردہ تصنیفش کدامی رافضی
    البتہ کردار کے نام پر معترض و مجیب ہر جگہ موجود ہیں۔ مثنوی ابتدا سے انتہا تک اعتراض و جواب کے سہارے آگے بڑھتی ہے اور تصوف کے مضامین کو سمیٹتی ہوئی اصلاح ودلسوزی کے ساتھ مکمل ہو جاتی ہے۔
    جنابحضور نے   نان و پنیر کے شاعر کا کہیں نام نہیں لیا ہے۔ شاید کہ انہیں شخصیت سے کوئی بحث ہی نہیں تھی۔ وہ عقیدے کی اصلاح چاہتے تھے، اس لیے نام کا ذکر کیے بغیر شاعر کی طرف صرف تنقیدی اشارے کیے۔
دوش دیدیم نا گہاں یک مثنوی

کردہ تصنیفش کدامی رافضی
تخمِ بد در مزرعِ دل کشت حیف!

زم مولا ی جہان بنوشت حیف!
بہرِ دونان باشد این نان و پنیر

انکر الاصوات شد صوت الحمیر
این چنین ذم می ندانم کیستی

رافضی یا خارجی یا نا صبی
    اور مثنوی کے مقصد تالیف پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا    ؎
رد نویسم قولِ نا محمود را

دل ہمین سوزد بر آرم دود را
    معترض نے صوفیا کو باطل کہا تھا۔ جواب میں آپ نے تصوف کی حقیقت، صوفیا کے مقام و مراتب، مجاہدہ و ریاضت، ان کی حق پرستی و معرفت آگاہی اور مرتبۂ فنائیت کو   الم نشرح کرتے ہوئے جماعت صوفیا کو نشان اہل حق اور جادۂ مستقیم کا حامل قرار دیا۔ چنانچہ اس میں بہت سارے اشعار مسلسل بھی ہیں اور متفرق بھی، جن میں تصوف کے متعلق مذکورہ بالا حقایق پیش کیے گئے ہیں۔ بطور نمونہ چند اشعار دیکھیں    ؎
ہر کہ حق را می پرستد بہرِ حق

یک ہمین صوفی است ز یرِ نہ طبق
اہلِ صفہ جملہ صوفی بودہ اند

در رہِ فقر آنکہ جان فرمودہ اند
عارفِ آگاہ ایشان بودہ اند

عاشقِ اللّٰہ ایشان بودہ اند
صوفیان را او نداند کیستند

آنکہ اندر ذات باقی نیستند
صوفی آن باشد کہ اوصافی بود

بہرِ امراضِ دروں شافی بود
 آنکہ یزدان را پر ستد بی غرض

در زمانِ صحت و سقم و مرض
آنکہ فانی در صفاتِ حق شود

قابلِ ذم پیشت ای احمق شود
    پھر تصوف کا رشتہ حضرت آدمں سے جوڑتے ہوئے فرمایا    ؎
اول صوفی بعالم آدم است

آنکہ مہراو بنای عالم است
صوفی آن آدم صفی اللّٰہ بود

آنکہ از اسرارِ حق آگاہ بود
مظہرِ حق با صفات و ذات شد

زاں سبب اشرف بمخلوقات شد
    تاریخ تصوف کے منظر و پس منظر یا اس کے ابتدائی نقوش اور عہد اسلامی میں اس کی باقاعدہ شروعات پر اظہار خیال کا جنابحضور کا اپنا انداز ہے جس سے بہر حال واضح ہے کہ وہ اس کا آغاز، آغاز آدمیت کے ساتھ مانتے ہیں اور عہد اسلامی میں جناب رسالت مآب ا کو مقتداے تصوف بتاتے ہوئے سلسلۂ تصوف کی اشاعت کا مرکزی نقطہ حضرت علی مرتضیٰ کو قرار دیتے ہیں    ؎
مقتدای صوفیا خود مصطفی است

باز بر جایش علیِ مرتضیٰ است
داند این امت تصوف را بنا

کرد در ہر سو علیِ مرتضیٰ
از ائمہ شد تصوف را رواج

نیست این را باد لیلی احتیاج
    اتنی تفصیلات سے یہ ثابت کر دیا ہے کہ جماعت صوفیا حاملین شریعت اور پرستاران حق کی جماعت ہے۔ اسے فرقۂ باطل کہنا، خود اپنے باطل ہونے کا اظہار ہے،  ذیل کے اشعار میں نہایت ہی برجستگی، صفائی بیان اور پر خلوص جذبے کے ساتھ اسی حقیقت کو واشگاف کیا گیا ہے   ؎
حق شناسا را تو گاہی دیدہ ای

خوشہ کی از خرمن شان چیدہ ای
صوفیانِ پاک را ذم  می کنی

نسبت تریاک باسم می کنی
لذت این درد گر دریا قتی

تار و پود ذم چرا می بافتی
بوزنہ لذات ادرک کی شناخت

شپرہ در روز روشن کی بتافت
کاملی را ناقصی گر گفت بد

باعث این نیست جز بغض و حسد
لیس ھذا الشیٔ شیئا من عجاب

طعن بو جہلی کند بر بو تراب
گویم انشاء اللّٰہ اش روزِ جزا

یافتی این ژاژ خائی را سزا
می کنی بر صوفیان این ریشخند

لب ببند و لب ببند ولب ببند
    سماع کے معنی سننا ہے اور ذکر حق نثر کی صورت میں ہو یا نظم کی صورت میں اس کا سننا شرعاً ممنوع نہیں  خود حضور اکرم ا نے بارہا اشعار سنے ہیں اور سنانے والے کو انعام و اکرام سے نوازا ہے۔ صوفیاے کرام نے اسی سنت کے مطابق سماع کو اپنے خانقاہی مراسم کا حصہ بنایا اور اسے صفائی قلب و وصول الی اللہ کے لیے مؤثر عمل سمجھ کر رواج بخشا۔ حضرت مخدوم جہاں نے تو سماع کو صوفیا کے لیے واجب قرار دیا ہے۔ آپ فرماتے ہیں :
جس دل میں خداے عز و جل کی محبت زیادہ ہوگی اس کے حق میں سماع شوق کو بھڑکانے والا ہے۔ پس جانو کہ جس کو یہ دولت نصیب ہے تو اس کے احوال شریفہ کو صوفیا کی زبان میں وجد کہا جاتا ہے۔ اس صورت میں سماع کا سننا حلال نہیں بلکہ مستحب اور واجب ہو جاتا ہے۔
    آپ نے سماع کی تین قسمیں کی ہیں۔ مستحب، مباح، حرام اور بہ فرق مراتب ان کے احکام نافذ کیے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں:
کسی بزرگ سے سماع کے بارے میں پوچھا گیا۔ فقال مستحب لاھل الحقائق و مباح لاھل التشکر والورع و مکروہ لا ھل النفوس والحظوظ۔  ( انہوں نے کہا کہ سماع اہل حقیقت و معرفت کے لیے مستحب ہے، زاہد و پرہیزگار کے لیے مباح ہے اور اہل نفس و شہوت کے لیے مکروہ ہے۔)
    سماع کے مباح ہونے کا حکم ہمیں حضرت خواجہ نظام الدین اولیا کے یہاں بھی مل جاتا ہے۔ انہوں نے اباحت کی جو تفصیل پیش کی ہے اس سے سماع کی نکھری ہوئی صورت سامنے آئی ہے۔ آپ فرماتے ہیں:
چندین چیزی می باید تا سماع مباح شود۔ مسمع، مستمع و مسموع وآلۂ سماع، مسمع یعنی گویندہ مرد تمام باشد کو دک و عورت نہ باشد، و مستمع آنکہ می شنود از یاد حق خالی نہ باشد و مسموع آنچہ بگوینہ کہ فحش و مسخری نہ باشد وآلۂ سماع مزامیر است چون چنگ ورباب و مثل آن، می باید کہ درمیان نہ باشد۔ این چنین سماع حلال است۔
    یعنی سماع حلال ہونے کے لیے قوال کا متشرع مرد ہونا سامعین کا یاد حق سے سرشار ہونا، کلام کا فحش و یادہ گوئی سے محفوظ ہونا اور مزامیر کے استعمال سے پاک ہونا ضروری ہے۔ حضرت خواجہ نظام الدین اولیا کے خلیفہ مولانا فخرالدین زرداری نے آپ کے حکم سے ایک رسالہ عربی زبان میں تصنیف فرمایا جس کا نام کشف القناع عن اصول السماع ہے۔ اس میں انہوں نے لکھا: اما سماع مشائخناث خبری عن ھذہ التھم و ھو مجرد صوت القوال المشعرۃ من کمال صنعۃ اللہ تعالیٰ۔
    اور اسی سماع میں اہل دل صوفیا پر وجد و حال کی کیفیت طاری ہوتی ہے۔ جس کو مشابہت صوتی کے لحاظ سے مجازاً رقص بھی کہا جاتا ہے، جس کے معنی قطعاً اس رقص سے جداگانہ ہے جس کے لیے اہل لغت نے اس لفظ کو وضع کیا ہے۔ وجد و حال جس کو مجازاً رقص کہا جاتا ہے ایک اضطراری عمل ہے جو قوت برداشت اور ضبط کی بندش ٹوٹ جانے سے سرزد ہوتا ہے، جب کہ شریعت کے احکام اختیاری عمل پر نافذ ہوتے ہیں۔ اضطراری پر نہیں۔ جب تک آدمی اصطلاح تصرف سے واقف نہ ہو اس کے لیے صوفیہ کے احوال، تصوف کی کتابیں یا اشعار کا سمجھنا ممکن نہیں۔
    قشقہ، ٹیکا، زنار، تلک خالص ہندوانہ اصطلاحیں ہیں، مگر تصوف میں ان کے معانی کیا ہیں۔ حضرت میر سید عبدالواحد بلگرامی فرماتے ہیں :ـ
اگر صوفیاے کرام کے ہندی کلمات میں ٹیکہ اور تلک کے الفاظ آئیں تو ان سے سالک کے چہرے پر ہو یدا ہونے والے اس نور صلاح کی طرف اشارہ ہوتا ہے، جس کا بیان آیت کریمہ سیماھم فی وجوھھم من اثرالسجود میں ہے۔
    حضرت مخدوم جہاں رحمۃ اللہ علیہ    بھی  مکتوبات صدی میں اصطلاح تصوف میں مستعمل بعض الفاظ کے معنی لکھتے ہوئے فرماتے ہیں:
پیران طریقت فرماتے ہیں کہ ان کے سامنے رندانہ اشعار شراب و کباب کے متعلق پڑھے جاتے ہیں، لیکن وہ ان سے دوسرے معنی لیتے ہیں۔ لفظ و صال سے دیدار الٰہی، فراق سے حجاب خداوندی، زلف سے قرب خداوندی، کفر سے اپنی ہستی اور اپنے اعمال کا چھپا لینا اور ارتداد سے اپنی خودی سے پھر جانا سمجھتے ہیں    ؎
کافر نہ شوی عشق خریدار تو نیست

مرتد نہ شوی قلندری کار تو نیست
    حضرت امیر خسروؔ کے یہاں بھی کفر، زنار اور بت پرستی کے الفاظ اصطلاحی معنوں میں استعمال ہوئے ہیں اور خوب ہوئے ہیں۔ فرماتے ہیں    ؎
کافر عشقم مسلمانی مرا در کار نیست

ہر رگِ من تار گشتہ حاجت زنار نیست
    اور    ؎
خلق می گوید کہ خسروؔ بت پرستی می کنند

آری آری می کنم با خلق مارا کار نیست
    اہل لغت کے رقص سے صوفیہ کے وجد و حال کی اسی مشابہت صوری اور مجازاً اس پر رقص کے اطلاق سے دھوکا کھا کر معترض نے اعتراض کیا تھا  جنابحضور پر سماع اور رقص کی ساری تفصیل مالہ وماعلیہ کے ساتھ واضح تھی۔ اس لیے آپ نے اپنی مثنوی میں فرمایا    ؎
تو کہ گفتی لہو بازی می کند

ذکر حق بانغمہ سازی می کنند
پائی تا سر این سخن باشد غلط

ہست ذم گفتن مراد تو فقط
    اس کے بعد جب آپ جواب کی طرف متوجہ ہوئے تو کوزے میں سمندر سمیٹ دیا۔ جنابحضور کے جواب سے پہلے مکتوبات صدی کا یہ اقتباس ملاحظہ کریں تاکہ مثنوی کی تفہیم آسان ہو جائے:
جب سماع میں دل پر بے قراری غالب ہو جائے اور اضطراب قوت برادشت سے باہر ہو تو رسم و ترتیب کا لحاظ اٹھ جاتا ہے۔ اس وقت یہ مضطربانہ حرکات نہ رقص ہوتی ہیں نہ اچھل کود اور نہ دل بہلاو، بلکہ وہ ایک جانکنی کا عالم ہوتا ہے اور نہایت سخت ہوتا ہے۔ ایسی حرکتیں جو سرزد ہوتی ہیں وہ اضطراب ہیں، رقص نہیں۔ پس وہ شخص جو ان مضطربانہ حرکات کو رقص سمجھتا ہے راہ صواب سے کوسوں دور ہے۔
    اب جنابحضور کے اشعار ملاحظہ کریں    ؎
مطرب و قوال باشد نغمہ ساز

ہست صوفی غرق در دریای راز
در دلم عرفان ہمی سازد ثنا

می زند خود لا جرم ز ان دست و پا
رقص بسمل در حقیقت رقص نیست

لا جرم زین اندر ایشان نقص نیست
رقص آن باشد کہ باشد با اصول

رقص شد نام تپیدن ای فضول
از حقیقت آنکہ می در جام کرد

آن مجازاً رقص آنرا نام کرد
گر بفعلی اختیاری می کند

نالہ و افغان و زاری می کند
نالہ وافغان و زاری چون بود

رقص فعل اختیاری چون بود
رقص رابا نالہ و زاری چہ کار

شادمانی را بخون باری چہ کار
دان کہ رقص بسملانہ دیگر است

گر تپیدان را کسی گوید خراست
این چنین افتان و خیزان رقص چیست

اضطراب است ای سفیہ این رقص نیست
می کند بر شمع بین پروانہ رقص

باشدش زین گونہ بی تابانہ رقص
    مزید فرماتے ہیں    ؎
اصطلاحی رقص و لغوی رقص چیست

پیش تو فرق میان ھر دو نیست
جلوۂ جانان چون آید در نظر

طرفہ می رقصند و از خود بی خبر
می فشانند از در عالم دست را

ہر کسی معذور دارد مست را
او نمی رقصد ز خود ای بی خرد

بلکہ می رقصاندش چیزی دیگر
    پھر تپ لرزہ میں مبتلا کی کیفیت کو بطور مثال پیش کرتے ہوئے فرماتے ہیں    ؎
در تپ لرزہ چون می افتد بسی

با حواس و عقل می جنبد بسی
نیست در جنبید نش ہیچ اختیار

خویش را دارد ز جنبش برقرار
وجد را پس بر ہمین می کن قیاس

از خرد داری اگر محکم اساس
 
    خداے تعالیٰ کی یاد میں مستغرق رہنا اس کے ذکر کو حرز جاں بنانا اور اس کی یاد میں گم رہنا بھی مطلوب شرع ہے۔ مرتبۂ فنائیت پر فائز ہونے والے صوفیا اس مقام سے ضرور گذرتے ہیں جہاں اپنی ہستی معدوم ہو جاتی ہے اور انہیں تمام موجودات میں خدا ہی خدا نظر آتا ہے۔ اس وقت جو کچھ ان کی زبان سے نکلتا ہے اس کی انہیں خبر نہیں ہوتی۔ امام احمد رضا فاضل بریلوی صوفیاے کرام کی اس کیفیت کے متعلق فرماتے ہیں:
حضرات اولیاے کرام کو ہنگامۂ ورود عظیمہ و تجلیات فخیمہ ایک وقت خاص حاصل ہوتا ہے، یعنی غایت سرور و شادمانی کہ مجامع قلب کو یک لخت محیط ہو کر تمام این و آں سے محض غافل کر دے   ہزاروں پریہ ایسی کیفیت لاتا ہے کہ حتی تعلموا ماتقولون کی حد سے گزار دیتا ہے۔ اس وقت جو کچھ ان کی زبان سے نکلے وہ آپ نہیں جانتے کہ ہم کون ہیں، کیا ہیں، کیا کہتے ہیں۔
    اس اجمال کی توضیح کرتے ہوئے امام احمد رضا نے چند تاریخی حقائق پیش کرتے ہوئے لکھا کہ اس مرتبہ پر فائز حضرات کی زبان سے:
اگر انت الحق یا سبحان اعظم شانک کی جگہ اناالحق اور سبحان ما اعظم شانی کے کلمات نکلیں تو جاے تعجب نہیں۔ جس طرح حضور ا نے ایک بندے کا اللھم انت ربی وانا عبدک (یعنی تو میرا رب میں تیرا بندہ) کے عوض انت عبدی وانا ربک (یعنی تو میرا بندہ میں تیرا رب) کہنا نقل فرمایا اور خود ہی اس کاعذر ارشاد فرمایا کہ اخطأمن شدۃ الفرح ( خوشی کی زیادتی کی وجہ سے خطا کر بیٹھا۔) شرعاً نہ اس پر مواخذہ نہ اس پر عتاب۔
    کہ سلطان نگیرد خراج از خراب
    جنابحضور نے مغلوب الحال صوفیاے کرام کے قول من خدایم کو اسی مقام معرفت و فنائیت کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے جواب ارشاد فرمایا، جو علمی ہے عقلی اور تاریخی بھی    ؎
و ان کہ گفتی بہرِ شان ای نا سزا

بر زبا نہامن خدایم من خدا
ہستی اش فانی چو شد در ذات حق

از برای گفتنش شد مستحق
من خدایم گفتن اینجا شد درست

چون بہ نفی ہستی خود راہ جست
قیس رابین چون انا لیلی بہ گفت

ہم چنین صوفی خدا خود را بہ گفت
ای کہ از گفتار شان رنجیدہای

حال منصور از کسی نشنیدہای
این سخنہا باشداز دیوانگی

آمد از دیوانہ کی فرزانگی
صوفیان را تانباشد صدقِ حال

نزدِ ایشان نیز کفر است این مقال
طول این تقریر خواہد دفتری

در خور فہمش نمی بینم سری
ایک الزامی جواب کا رنگ بھی ملاحظہ کیجیے۔ کتنا برجستہ اور عقیدۂ معترض پر کتنا چسپاں ہے    ؎
سرزد از مولا علی زینشان سخن

زان نصیری راست رب ذوالمنن
چون علیِ مرتضیٰ باشد خدا

لم یلد لم یولدش خواندن چرا
بندگان را چون خدا گفتن خطا است

گفتن شان را بکن غور از کجا است
حجت قاطع ہمین مارا بس است

بس بود حرفی بخانہ گرکس است
    مثنوی شہد و شیر جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا کثیرالجہات حیثیت کی حامل ہے۔ اس کے کئی پہلو ایسے ہیں جن پر تفصیلی گفتگو کی ضرورت ہے۔ انشاء اللہ فرصت نکال کر ان عناوین پر بھی کچھ نہ کچھ لکھنے کی کوشش کروں گا۔ یہ مختصر ساموضوعاتی مطالعہ ظاہر ہے اس مثنوی کی مختلف جہتوں کا احاطہ نہیں کرتا۔ میں نے قصداً طوالت سے احتراز کیا ہے۔
    جنابحضور کی علمی عظمتوں کا زمانہ معترف ہے۔ نثر و نظم دونوں اعتبار سے آپ کی شخصیت ممتاز اور مستند مانی جاتی ہے۔ زیر بحث مثنوی میں مناظرانہ اسلوب پر دسترس کا وصف بھی نمایاں ہوتا ہے۔ انہوں نے معترض کو جواب دیتے ہوئے مناظرانہ تیور سے کام لیا ہے اور قصداً علمی مباحث سے احتراز کیا ہے کہ اس طرح کی مثنویاں خالص علمی مباحث کی متحمل نہیں ہوتیں۔
    جہاں تک صنف مثنوی کے فنی لوازمات کا تعلق ہے تو اس نوعیت کی مثنوی میں اسے تلاش کرنا ناروا ہے۔ یہاں نہ طویل داستان ہوتی ہے نہ قصے کی ابتدا اور نہ ہی عروج و زوال جبکہ یہ مقصدی مثنویاں فقط اشعار کے تسلسل اور ارتباط خیال تک محدود ہوتی ہیں اور اس طور پر جنابحضور پوری طرح کامیاب ہیں۔