?????? ????????? ????? ??? ?? ?? ??????RAZWIYAT KAISTELAHI MAFHUM AOR US KE TAQAZE

  • Home
  • ?????? ????????? ????? ??? ?? ?? ??????RAZWIYAT KAISTELAHI MAFHUM AOR US KE TAQAZE

?????? ????????? ????? ??? ?? ?? ??????RAZWIYAT KAISTELAHI MAFHUM AOR US KE TAQAZE

image

رضویات کا اصطلاحی مفہوم اور تقاضے
-------  علامہ سید وجاہت رسول قادری، پاکستان
کثیر علوم وفنون عقلیہ ونقلیہ میں آپ کی مہارت تامہ بالخصوص اسلامی فقہ میں آپ کے بے مثال تبحراور اس کی جزئیات و کلیات پر کامل دسترس کابے شمارعلمائے عرب و عجم، جس میں امام صاحب سے اعتقادی، نظری اور علمی اختلاف رکھنے والے بھی شامل ہیں، برملا اعتراف کرتے ہوئے نظر آتے ہیں اور یہ سلسلہ اکتساب فیض آج بھی جاری وساری ہے اور انشاء اللہ جب تک آفتاب و ماہتاب چمک رہے ہیں جاری رہے گا ۔ کیونکہ دانش نورانی اور علم نفع بخش کی فیض رسانی کسی زمان ومکان کی مقید نہیں۔امام احمد رضا سے استفادہ کرنے والے علماء و اسکالرز کی تعدد اس قدر کثیر ہے کہ طوالت کے خوف سے یہاں ذکر نہیں کیاجاسکتا۔ البتہ جن کومطالعہ و تحقیق کا شو ق ہے، وہ ماہر رضویات قبلہ پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد صاحب اور دیگر مصنفین رضویات کی کتب ملاحظہ کر سکتے ہیں ۔ بلاشبہ امام احمد رضا کا ایوان علم ودانش، ایک ایسا حیرت کدہ ہے جہاں زمانے کے بڑے بڑے دانشور گم ہوتے نظر آتے ہیں۔  آپ کا یہی گرانقدر علمی ، فکری، تحقیقی وتصنیفی سرمایہ ہے جسے آج کے اہل علم وتحقیق ’’رضویات‘‘ کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔
کسی بھی شخصیت کا علمی نظم وضبط کے آئینہ میں جائزہ لینے اور مطالعہ کرنے کی ضرورت اس وقت پیش آتی ہے جب اس شخصیت میں چند اہم اجزائے ترکیبی موجود ہوں۔
۱۔وہ فہم وذکاوت اور علم وفن کے اعتبار سے اپنے وقت کی عبقری ہو۔
۲۔عصری مسائل اور الات کے اعتبار سے مرجع خواص و عوام ہو۔ 
۳۔اس کے علم وبیان میں کمال درجہ کا نظم وضبط ہو۔
۴۔اپنے دور کے مسائل جدیدہ وقدیمہ پر محیر العقول دسترس رکھنے والی اور علم کے تمام موجود وسائل اور اس کے استعمال سے اچھی طرح واقف ہو۔
۵۔تحریر و تقریر ،فصاحت و بلاغت ،براعت اوردلائل وبراہین سے مدون و مزین ہو۔ 
    جب اس کسوٹی پر ہم امام احمد رضا کی شخصیت کاجائزہ لیتے ہیں تو ہم ان کی ہمہ جہت شخصیت کی انفرادیت اور امتیازات کہیں زیادہ نمایاں پاتے ہیں۔ ان کی شخصیت کے خاص خاص نکات یہ ہیں:
۱۔وقت کے جید علمائے عرب و عجم نے آپ کی عبقریت کو تسلیم کرتے ہوئے یگانۂ روزگار ، نادرزمن، مجددمأۃ حاضرہ، علامۂ دوراں، قاضی القضات عالم اسلام، امام الامہ ، فرید الدھر، وحیدالعصر، خاتم المحققین، سید العلماء الاعلام(۱)وغیرہ جیسے القابات سے نوازا ہے۔
۲۔عشق رسول ﷺ میں سرشاری وجذبہ فداکاری اور کمال اتباع رسول ﷺ 
۳۔فکر ونظرمیں عمق و دقت
۴۔مطالعہ میں کمال درجہ کی وسعت اور ہمہ گیریت
۵۔فہم میں اعلیٰ درجہ کی صحت و قطعیت
۶۔بے پناہ قوت استدلال
۷۔اخذ نتائج میں کمال درجہ پختگی اور مہارت
۸۔رائے میں حد درجہ ثقاہت وصلابت اور قول فیصل صادر کرنے کی غیر متباری صلاحیت( جسے کسی سطح پر نہ چیلنج کیاجاسکے اور نہ جس کا کوئی متقابل ہو)۔
۹۔علم وبیان میں کمال درجہ کا نظم وضبط
۱۰۔زبان وبیان میں فصاحت و بلاغت اور براعت کا اعلیٰ معیار
۱۱۔علوم جدیدہ وقدیمہ پر محیر العقول دسترس
۱۲۔مسائل جدیدہ و قدیمہ پر گہری نظر اور اس کی بہترین تنقیح اور حل پیش کرنے کی صلاحیت
یہ اور آپ کی شخصیت کے دیگر بے شمار امتیازات اس بات کے متقاضی ہیں کہ ماہرین تعلیم اور جامعات کے اساتذہ علم وفن ’’رضویات‘‘کی طرف متوجہ ہوں اور اسے بطور ایک موضوع یعنی مستند فرع علم کے اسکول، کالج اور جامعات کے نصاب میں متعارف کرائیں۔
امام احمد رضا کی تصانیف بالخصوص فتاویٰ کا مطالعہ کیاجائے تو یہ بات واضح نظر آتی ہے کہ اہل تحقیق کے لیے موضوعات کی کمی نہیں بلکہ بقول ماہر رضویات مسعود ملت پر وفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد صاحب قدس سر ہ ،ہر فن کے جاننے والے کے لیے فتاویٰ رضویہ کی ہر جلد میں اس قدر موضوعات ہیں کہ محقق کے لیے یہ فیصل کرنا دشورا ہوجاتاہے کہ کس موضوع کولیاجائے اورکس کو چھوڑاجائے۔(۲)
پاکستان کی شرعی عدالت کے جسٹس مفتی سید شجاعت علی قادری مرحوم نے بھی اپنے ایک مقالہ میں رضویات پر تحقیق کے حوالے سے کچھ اسی قسم کے تاثرات کا اظہار کیا ہے، آپ فرماتے ہیں:
’’آپ کی شخصیت علمی حلقوں میں اس طرح متعارف نہیں ہوئی جیساکہ اس کا حق ہے، مولانا نے علوم ومعارف کی جو میراث ہمارے لیے چھوڑی ہے اگر ہم زندگی بھر اسے سمیٹنے کی کوشش کریں تو جمع نہیں کر سکتے۔‘‘(۳)
قطع نظر فتاویٰ رضویہ کے آپ کی عبقری اور ہمہ جہت شخصیت کا ہر پہلو ایک مستقل موضو ع ہے ، مثلاً
۱۔آ پ طریقت میں کس طرح مصلح ہوئے؟
…طریقت میں کیا خرابیاں در آئی تھیں؟
…ترک شریعت کا خطرناک رجحان کس قدر غالب آ گیا تھا؟
…غیر مسلم معاشرے کے اثرات کے پیش نظر مسلم معاشرے میں جو خرابیاں اور بدعات شامل ہوگئی تھیں ان کے تدارک کے لیے اور معاشرے کے اصلاح کے لیے آپ نے کیا کاوشیں کیں؟کیا علاج تجویز کیا؟
۲۔امام احمد رضا کے عمرانی، مدنی اور سیاسی افکار ونظریات کیا تھے؟
۳۔عقائد کے باب میں کیا کیا خرابیاں پیداہوگئی تھیں یا کی جارہی تھیں؟
…امت مسلمہ کے خرمن ایمان کو جلاکر راکھ کر دینے کے لیے کیاکیاسازشیںدرون خانہ اور بیرون خانہ ہو رہی تھیں؟
…آپ نے اس سیلاب اہانت کے آگے کس طرح بند باندھا؟
…اس طوفان بدتمیزی کا رخ موڑکر آپ نے کس طرح امت مسلمہ کے خرمن عقائد کے تحفظ کے لیے مضبوط بنیادیں فراہم کیں؟مستقبل میں اس کے کیا اثرات ہوئے؟
۴۔مسلم نوجوانوں بالخصوص آئندہ آنے والی نسلوں کی تعلیم وتربیت، درس وتدریس، نصاب وتربیت کے لیے آپ کے نظریات کیاتھے؟ مفید علوم نقلیہ و عقلیہ (روایتی وسائنسی علوم) کے ابلاغ کے لیے آپ نے کیا عملی اقدام اٹھائے اور ٹھوس تجاویز و نظریات پیش کیے؟
یہ اور اس قسم کے دیگر بیسیوںعنوانات تحقیق کے مستقل موضوعات ہیں جو اہل علم کو’’رضویات‘‘ کو بطور فرع علم مطالعہ کرنے اور اس کی درس وتدریس کے ابلاغ کی دعوت دے رہے ہیں۔
دیکھاجائے تو ’’رضویات‘‘کا اصل منبع قرآن وسنت ہیں اس لیے یہ کوئی نئی فرع علم نہیں ہے۔امام احمد رضا قدس سرہ العزز کی تحریر وفکر کی تمام تا بانیاں وجولانیاں قرآن حکیم اور اعلم کائنات ، عالم علم ماکان ومایکون   کے نور کا پرتو ہیں۔ وہ علم مصطفی ﷺ کے صاف ومصفی سرچشمہ سے سیراب اورائمہ کرام بالخصوص امام اعظم ، امام ابوحنیفہ نعمان بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بحر علم سے فیضیاب ہیں بلکہ دور جدید میں حنفی المذہب اور صحیح العقیدہ ہونے کی آپ ہی شناخت ہیں۔ ’’حنفیت‘‘ بذات خود گذ شتہ چودہ سو برس سے دور صحابہ کے معاً بعد اور تابعین کے دور سے علو م اسلامی کی سب سے اول اور وسیع تر فرع ہے۔ دیگر ثلاثہ مذاہب ، شافعت، مالکیت، حنبلیت بعد کی پیداوار ہیں اور یہ سب امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے صاحبین، تلامذہ یا تلامذہ التلامذہ کے فیض یافتہ افراد سے منسوب ہیں۔ امام احمد رضا کی تمام علمی وفکری کاوشوں کامحور حنفیت ہے۔ ایک جگہ آپ خو د فرماتے ہیں:
    ’’میرے وہ فنون جن کے ساتھ مجھے پوری دلچسپی حاصل ہے ، جن کی محبت عشق وشیفتگی کی حد تک (مجھے)نصیب ہوئی ہے، وہ تین ہیں:
۱۔سب سے پہلا،سب سے بہتر، سب سے اعلیٰ، سب سے قیمتی فن یہ ہے کہ رسولوںکے سردار (صلوۃ اللہ وسلامہ علیہ )کی جناب پاک کی حمایت کے لیے اس وقت کمربستہ ہوجاتاہوں جب کوئی کمینہ وہاں گستاخانہ کلام کے ساتھ آپ کی شان  میں زبان دراز کرتا ہے…
۲۔پھردوسرے نمبرپر وہابیوں کے علا وہ ان تمام بدعتیوں کے عقائد باطلہ کا رد کرکے انہیں گزند پہنچاتا رہتا ہوں جو دین کے مدعی ہونے کے باوجوددین میں فساد ڈالتے رہتے ہیں۔
۳۔پھر تیسرے نمبر پر بقدر طاقت ، مذہب حنفی کے مطابق فتویٰ تحریر کرتا ہوں، وہ مذہب جو مضبوط بھی ہے اور واضح بھی۔
    تو یہ تینوں میری پناہ گاہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔انہیں پر میرا بھروسہ ہے۔(۴)
امام اعظم امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ سے منسوب اسی فرع  علم یعنی حنفیت پر امام احمد رضا کی کمال دسترس اور انتہائی ذہانت وفتانت اور ذکاوت کے ساتھ فقہ حنفی کے اصول وضوابط، دلائل اور جزئیات وکلیات کو اپنے فتاویٰ میں سمونے اور انہی بنیادوں پر اپنے دور کے جدید مسائل میں قول فیصل صادر کرنے کی صلاحیت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے علمائے حرمین شریفین نے فرمایا:
’’میں قسم کھاکر کہتاہوںاور سچ کہتاہوں یہ فتاویٰ (رضویہ)اگرامام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ دیکھ لیتے تو ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوجاتیں اور اس کے مولف کو اپنے شاگردوں میں شامل کرلیتے۔‘‘(۵)
افغانستان کی سابق عبوری حکومت کے چیف جسٹس علامہ مفتی نصر اللہ خاں افغانی مدظلہ العالی فقہ اسلامی بالخصوص فقہ حنفی میں تبحر کے اعتبار سے امام احمد رضا قدس سرہٗ کے بارے میں اپنے عمیق مطالعہ کے بعد جامع تبصرہ فرماتے ہوئے کہتے ہیں کہ
’’امام احمد رضا قدس سرہٗ سامی مجتہد فی المسائل تھے۔ ان کی شان اجتہاد ایسی ہے کہ ہر مسئلہ میں پہلے اصول دیتے ہیں، کلیہ پیش کرتے ہیں، اصول کے تحت جزئیات کو پیش کرتے ہیں اور اس بات سے پوری طرح واقف ہیں کہ کون کون سی جزئیات کن کن اصولوں کے تحت ہیں۔ پھر سیاق و سباق کو بھی دیکھتے ہیں، عبا رات، اشارات اور اقتضیٰ کو بھی مدنظر رکھتے ہیں، الفاظ وکلمات اور ان کے معانی اور استعمال سے بھی باخبر ہیں، رسم ورواج اور محاورات اقوام کے بھی عارف ہیں۔ پانچ سو سے زیادہ آیات قرآنیہ اور تین ہزار سے زیادہ احادیث مبارکہ جو حلال و حرام کے احکام جلی سے متعلق ہیں ان کے بارے میں وہ علم الیقین بلکہ عین الیقین ہی نہیں، حق الیقین رکھتے ہیں۔(۶)
یقینا عالم اسلام کی ایسی عبقری اور متبحر شخصیت کے افکار ونظریات اور اس کا علمی نظم وضبط اس قابل ہے کہ اسے دور حاضر کے علوم کی ایک فرع (Discpline)کی حیثیت سے تمام عالمی جامعات اور تحقیقی اداروں میں ’’رضویات‘‘(اس کے اپنے نام کی مناسبت) سے معنون کر کے باقاعدہ ایک نصاب کے تحت متعارف کرایا جائے اور یہ چند وجوہ سے نہایت ضروری ہے۔ 
۱۔امام احمد رضا علیہ الرحمہ کے علم وتحقیق کی اساس قرآن وحدیث، آثار و سیر اور اقوال ائمہ ہیں، اس لیے ’’رضویات ‘‘کامطالعہ اور اس پر تحقیق کرنے والا مآل کا ر قرآن وحدیث، اجماع اور قیاس کے اصل مآخذ تک رسائی حاصل کرسکے گا۔(۷)
۳۔ گذشتہ چار پانچ سو سال میں فقہ حنفی پر جو کچھ لکھاگیا ہے اور علمائے اسلام کی جو کچھ بھی تحقیقات اور مجموعہ فتاویٰ سامنے آئے ہیں، مسائل کی تفہیم، تحقیق، تدقیق، تنقیح، علمی نظم وضبط اور جامعیت کے اعتبار سے فتاویٰ رضویہ اپنے تمام سابقین پر فوقیت رکھتا ہے ، فتاویٰ رضویہ کے مطالعہ و تحقیق کے بغیر گذشتہ چار سو سالہ فقہی سرمایہ کا کوئی بھی علمی جائزہ یا ان پر نقد ونظرنامکمل ہوگااس لیے بھی ’’رضویات‘‘ کا مطالعہ اور اس کی درس وتدریس نہایت اہمیت کی حامل ہے۔ 
۴۔یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے جسے اپنے اور غیر سبھی تسلیم کرتے ہیں کہ امام احمد رضا سے قبل گذشتہ دو  صدیوں میں ان جیسا بلند پایہ فقیہ ، ماہر علوم اسلامیہ اور ریاضیات اور دیگر سائنسی علوم میں کامل دسترس رکھنے والا موضوعاتی عالم برصغیر پاک وہندبنگلہ دیش میں نہیں گزرا اس لیے ان دو صدیوں میں اسلامی فقہ بالخصوص فقہ حنفی اور دیگر علوم نقلیہ اور عقلیہ کی ترویج و اشاعت کا تاریخی تسلسل میں جب بھی جائزہ لیاجائے گا، امام احمد رضا قدس سرہٗ جیسی عبقری شخصیت کے فکری، نظری، فقہی، دینی اور سائنسی کارناموں کے ذکر کو اولیت حاصل ہوگی۔ اس لیے عہد حاضر اور مستقبل کے نوجوانوں کے لیے نصابی نظم وضبط کے تحت ’’رضویات‘‘کامطالعہ نہایت ضروری قرار پاتا ہے۔ 
راقم کی تحقیق کے مطابق ’’رضویات‘‘ کی اصطلاح بطور علم کی ایک فرع (Discpline of Knowledge)پہلی بار تحریری طورپر ۱۴۱۰ھ/۱۹۸۹ء میں استعمال ہوئی جب ادارہ تحقیقات امام احمد رضا کراچی نے ’’آئینہ رضویات‘‘ کے نام سے امام احمد رضا علیہ الرحمۃ پر لکھی گئی ۲۲ کتابوں پر جناب پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد صاحب قبلہ کے مطبوعہ مقدمات کا مجموعہ شائع کیاتھا۔ اس کے مرتب راقم اور ادارہ ہذا کے جنرل سکریٹری محترم پروفیسر ڈاکٹر مجید اللہ قادری صاحب زید مجدہٗ تھے۔ اس کا پیش لفظ راقم نے تحریر کیاتھا ۔ پیش لفظ کا اختتام ا ن لفظوں میں ہے:
’’اس اعتبار سے’آئینہ رضویات‘ فاضل بریلوی علیہ الرحمۃ کی شخصیت وفکر کے مختلف گوشوں کے بارے میں نہایت نادر معلومات جمع کردی گئی ہیں۔ یہ مجموعہ یقینا محققین اور دانشوروں خصوصاً ’رضویات‘ پر کام کرنے والوں کے لیے ایک علمی اثاثہ ثابت ہوگی۔‘‘
البتہ ۱۹۹۲ء سے معارف رضا کے سالناموں میں رضویات کی اصطلاح باقاعدہ استعمال ہونے لگی۔ ’’آئینہ رضویات‘‘ کے اسی حصہ میں قبلہ پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد صاحب کے لیے پہلی بار ’’ماہر رضویات‘‘ کا خطاب استعمال ہوا ہے۔ اگر کسی محقق کو ۱۹۸۹ء  سے قبل کسی اور رسالہ یا کتاب میں ’’رضویات‘‘ کی اصطلاح کے استعمال کا علم ہو تو وہ ہمیں ضرور مطلع فرمائیں، ہم تصحیح کرلیںگے۔ تحدیث نعمت کے طورپر عرض ہے کہ ۱۹۸۵ء اور ۱۹۸۶ء کے دوران زبانی طورپر اس ہیچمدان راقم نے ’’رضویات‘‘کی اصطلاح ’’اقبالیات‘‘ کے مقابل تجویز کی تھی جس کو حضرت علامہ شمس بریلوی مرحوم مغفور، حضرت قبلہ پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود  قدس سرہ اور بانی و صدر اول ادارۂ تحقیقات امام احمد رضا حضرت مولانا سید ریاست علی قادری مرحوم مغفور نے پسند فرمایا۔ ان حضرات گرامی کی تائید وتوثیق کے بعد راقم نے اسے ضبط تحریر میں لایا اور اب امام احمد رضا علیہ الرحمہ کی فکر اور علمی مآثر سے معنون، علم کی ایک فرع کی حیثیت سے محققین اور اہل قلم حضرات اپنی اپنی تحریروں میں ’’رضویات‘‘ کی اصطلاح مستقلاً اور مداومت کے ساتھ استعمال کر رہے ہیں حتیٰ کہ عالمی جامعات کے ایوانوں میں بھی اس کی گونج سنائی دے رہی ہے۔ چنانچہ مصر کے عصر حاضر کے عظیم صاحب علم وقلم، عربی، فارسی، ترکی، انگریزی، فرانسیسی زبانوں کے شاعر اور جامع ازہر شریف، قاہرہ کے لائق استاذ، مجمع اللغات الامم الاسلامیہ جامع عین الشمس قاہرہ کے رکن رکین عربی کے علاوہ گیارہ زبانوں اور آٹھ عالمی زبانوں میں درس وتدریس دینے والے ڈاکٹر حسین مجیب مصری مرحوم نے ’’رضویات‘‘ کو بطور فرع علم مصر کی جامعات بالخصوص جامعہ ازہر شریف کے نصاب میں شامل کرنے کی ضرورت پر ایک عربی مقالہ بعنوان ’’وجہ الحاجات الی دراستہ مولانا احمد رضا خاں‘‘ (۱۴۲۰ھ/۱۹۹۹ء)تحریر فرمایا جس میں آپ نے لکھا:
ان تلک المقالات التی القت الاضواء علی ہذہٖ الشخصیۃ الاسلامیۃ التی ینبغی لکل مسلم ان یعرف شیاً عنھا تعد بلاریب انجازا لما ینبغی انجازٖہٖ لاٗن دراسۃ ہذہ  شخصیۃ فی ملامحھا وفی تراثھا الاسلامی ھی فی الحقیقۃ الامر دراسۃ لدین الحق فی اصولہ وملامحہ وما ینغی ان یعرف عنہ…
ان دراستہ مولانا احمد رضا خان من الاھمیۃ بمکان عظیم لاخثر من وجہ فھو شخصیۃ اسلامیۃ مرموقۃ م افی ذلک ریب، کما انہ متعدد الجوانب فی تراثہ الاسلامی جملۃ وتفصیلاً۔ انہ فقیہ امام لہ فتاوی التی تجلی من الحقائق مالم یکن لعلماء المسلمین عھد  لہکما ان صیتہ طبق آفاق البلاد الاسلامیۃ  ۔ انہ شاعر صاحب دیوان فی العربیۃ والاردیۃ الفارسیۃ۔ ‘‘
مولانا احمد رضا پر تحقیقی مقالات ان کی (عظیم )اسلام شخصیت پر روشنی ڈالتے ہیں۔ ہرمسلمان کو چاہئے کہ اس شخصیت سے کماحقہ باخبر ہو، اس شخصیت کے کارنامے اس سے کہیں زیادہ ہیں جو اب تک تحقیقی مقالات میں بیان کیے گئے اس لیے کہ اس شخصیت کے خدو خال (سوانح) اور اس کے ورثۃ العلمی الاسلامی کا مطالعہ دراصل دین حق کے اصول اور لوازمات کا مطالعہ ہے جن کا جاننا ہم سب کے لیے ضروری ہے۔۔۔
مولانا احمد رضا (رضویات) پر درس وتدرس کثیر وجوہ کی بنیادپر عظیم اہمیت کی حامل ہے۔ و ہ (امام احمد رضا خاں)اسلام کی ایک عبقری شخصیت ہیں اور اس میں کوئی شک وشبہ نہیں اس لیے کہ کثیر الجہات اعتبار سے ان کے ورثۃ العلمی الاسلامی میںان کی خدمات کی اجمال و تفصیل دیکھنے میں آئی ہیں، وہ امامت کے منصب پر فائز ایک فقیہ ہیں جن کے فتاویٰ حقائق کی ایسی تجلیات سے جگمگا رہے ہیں کہ ان کے عہد کے عالم اسلام کے علماء وہ جولانیاں نہ دکھاسکے۔ گویا ان کا تبحر علمی (اور علوم اسلامی عقلیہ نقلیہ میں ان کی کمال دسترس کی خوبی) عالم اسلام کے افق پر روشنی بن کر چھا گئی ہے۔ وہ عربی، اردو او ر فارسی کے صاحب دیوان (عظیم) شاعر ہیں۔‘‘(مفہوم)(۸)
ماہر رضویات پروفیسر ڈاکٹر مسعود احمد مظہری نقشبندی کو امام احمد رضا پر تحقیق کی ضرورت کیوں؟ کے تحت امام احمد رضا کی ہمہ جہت اور عبقری شخصیت کے مختلف گو شوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تحریر کرتے ہیں:
’’امام احمد رضا پر تحقیق (وتدریس) کی ضرورت اس لیے محسوس کی جارہی ہے کہ :
۱۔وہ سواد اعظم اہل سنت کے علمبردار ہیں،
…ان کے جذبے میں بڑ اخلوص ہے،
…ان کی فکر میں بڑی گہرائی (اور گیرائی) ہے،
…انہوں نے عشق مصطفیﷺ کو ملت کی فکری اساس قرار دیا،
…ان کے نزدیک زندگی عشق مصطفیﷺ سے عبارت ہے۔
۲۔ انہوں نے ستر سال قبل ملت اسلامیہ کو خبردارکیاتھا:
    …’’نصاریٰ اور یہود وہنود سب ملت اسلامیہ کے بدخواہ ہیں، ان سے دوستی نہ کرنا، ان کو اپنا نہ سمجھنا، ان کو راز دار نہ بنانا۔ جس نے ان کو خیر خواہ سمجھا ، اس نے ٹھوکر کھائی۔‘‘
۳۔ امام احمد رضا نے سقوط سلطنت اسلامیہ(ترکیہ) کے فوراً بعد پست ہمت مسلمانوں کے حوصلے بڑھائے، ان کے دلوں کو عشق مصطفی ﷺ کی گرمی سے گرمایا اور اسی دولت عشق کا احساس دلا کر کم مائیگی کا احساس مٹایا (اور) ایک بھرپور تحریک چلائی۔
…امام احمد رضا اتحاد عالم اسلامی کے داعی تھے۔
…جب (مسلمانوں کا )کارواں لٹ رہاتھا، و ہ لوٹنے والوںکا تعاقب کر رہے تھے اورلٹنے والوں کا دامن کھینچ کھینچ کر (امن وسلامتی کی طرف) بلا رہے تھے۔
امام احمد رضا کے عہد میں ظاہر ہونے والی تمام نئی نئی تحریکوںاور سیدھے راستہ سے ہٹ کر نئی نئی راہیں بنانے والوں کے (جن کا امام احمد رضا اس وقت تعاقب کر رہے تھے) نتائج آج ہمارے سامنے ہیں اور تاریخ کا حصہ ہیں۔ ان نتائج و عواقب کو سامنے رکھ کر امام احمد رضا کے فکر وتدبر کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ 
امام احمد رضا کے فکر و تدبر کے عظیم ذخیرے ’’فتاویٰ رضویہ‘‘ کو کھنگالیں اور اس خدا داد دانش نورانی کا خود نظارہ کریں اور دوسروں کو بھی کرائیں۔ آپ کو اندازہ ہو جائے گاکہ ان کی فکر وتعلیمات (رضویات) پر کس قدر کام کی ضررت ہے۔آج ہمیں امام احمد رضا کی ضرورت ہے ، وہ دلوں کی آواز ہیں اور وقت کی پکار ہیں۔ برصغیر پاک وہند وبنگلہ دیش کی یونیورسٹیوں کے اساتذہ فراخدلی سے کام لے کر حضرت رضا بریلوی کا مطالعہ ضرور کریں اور پھر علم وادب اور فضل وکرم میں انہیں یگانۂ روزگار پائیں، تو اس طرف متوجہ ہوں، ایسی پہلو دار شخصیت پر ایک نہیں بیسیوں عنوانات مل جائں گے،  مجبور ِ یک نظرآ، مختار صدنظرجا‘‘(۹)
 یہ بات خوش آئندہے کہ برصغیر پاک وہند کی جامعات کے اساتذہ اور اہل علم وتحقیقات نے ادارہ تحقیقات امام احمد رضا کی کاوشوں کی بدولت گذشتہ ۳۰ برسوں میں امام احمد رضا پر خاص توجہ دی جس کی وجہ سے ’’رضویات‘‘ اقبالیات کے طرز پر بطور ایک فرع علم (A Discpline of Knowledge)ابھرکر ایک نظم وضبط کے ساتھ سامنے آئی ہے جس کی بدولت دیگر ممالک کی جامعات ، بالخصوص عرب ممالک مثلاً مصر میں جامعہ ازہر شریف، جامعہ عین الشمس، عراق میں جامعہ اسلامیہ (سابق جامعہ صدام) اور شام میں معہد الفتح الاسلامی کے اساتذہ کرام اور اہل قلم حضرات رضویات کے موضوعات کی طرف متوجہ ہوئے ۔ادارہ تحقیقات  نے گذشتہ ۲۸برسوںمیں امام احمد رضا کی شخصیت اور ان کے علمی ورثہ کے حوالے سے مختلف النوع موضوعات پر اس قدر مقالات اور تحقیقی مواد فراہم کر دیا ہے کہ اب ’’رضویات‘‘پر بطور فرع علم کام نہایت آسان ہو گیا ہے۔ 
حوالہ جات
(۱)    ملاحظہ تقریظات’’الدولۃ المکیۃ بالمادۃ الغیبیۃ‘‘(۱۳۲۳ھ) (مع تعلیقاتھا للمصنف الشیخ الامام احمد رضاخان الفیوضات المکیۃ لحب 
        الدولۃ المکیۃ)(۱۳۲۶ھ)مطبوعہ:مؤسستہ رضا فائونڈیشن، لاہور۔۱۴۲۲ھ/۲۰۰۱ء
(۲)    رضویات پر تحقیق کے حوالہ سے ایک نجی محفل میں راقم سے اظہار خیال (وجاہت)
(۳)مقالہ ’’مقام اعلیٰ حضرت۔ فقہا ء اور اصولیین کے درمیان‘‘ معارف رضا سالنامہ ۱۹۹۳ء/۱۴۱۴ھ،  ص:    
(۴)    ترجمہ ’’الاجازات المتینہ لعلماء بکۃ والمدینۃ ‘‘، ص:۱۶۰،۱۶۱،مطبوعہ بریلی، بحوالہ معارف رضا سالنامہ ۱۹۸۹ء،ص:۶۸
(۵)    ’’الاجازات المتینہ لعلماء بکۃ والمدینۃ ‘‘،مکتوب محررہ ۱۶؍ذی الحجہ ۱۳۲۵ھ/ ۱۹۰۷ء، بحوالہ حیات مولانا احمد رضا خاں بریلوی، مصنفہ:پروفیسر ڈاکٹر مسعود احمد، مطبوعہ سیالکوٹ  ۱۹۸۱ء،ص:۱۳۱
(۶)    فتاویٰ رضویہ پر درسی ختاب (۱۹۸۷ء)شیخ الحدیث علامہ نصر اللہ خاں الافغانی، سابق چیف جسٹس ، عبوری حکومت اسلامی جمہوریہ افغانستان    
(۷)حسین مجیب مصری، دکتور، فی ذکری مولانا احمد رضا خان، مجلہ ال کتاب التذکاری مولانا احمد رضا ،خاں، مطبوعہ دار الکتاب ، قاہرہ ۱۴۲۰ھ/۱۹۹۹ء ص:۸
(۸)    الکتاب التذکاری مولانا امام احمد رضاخاں،مطبوعہ دار الاتحاد، القاہرہ۱۴۲۰ھ/۱۹۹۹ء، ص:۸۔،۱۸
(۹)ملخصاً، آئینہ رضویات (امام احمد رضا مطلع تاریخ پر)حصہ چہارم، ناشر: ادارہ تحقیقات امام احمد رضا انٹرنیشنل، کراچی(صفر     المظفر ۱۴۲۵ھ/اپریل ۲۰۰۴ء)ص:۱۲۸ تا ۱۳۲