DR S JAMALUDDIN ASLAM ALIGADH

  • Home
  • DR S JAMALUDDIN ASLAM ALIGADH

DR S JAMALUDDIN ASLAM ALIGADH

image

’’باربرا مٹکاف‘‘کے تحقیقی مقالہ کا تنقیدی مطالعہ
 n  ------ڈاکٹر سید جمال الدین اسلم ،علی گڈھ
میں پہلے پیش خدمت مضمون کے عنوان اور خاکے کا شان نزول مختصراً عرض کرنا چاہوںگا۔ چند سال قبل جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی میں باربرا مٹکاف سے مختصراً ملاقات ہوئی۔ کسی دانشور نے حامی اسلام امام احمد رضا کے مداح کی حیثیت سے میرا تعارف کرادیا۔ لہٰذا دیو بند، بریلی اختلاف کے حوالے سے کچھ گفتگو بھی ہوئی۔ ہمارے ایک غیرمسلم دانشور ساتھی نے سوال کیاکہ علمائے اہل سنت کے تصور رسالت کی کیا موٹی موٹی خصوصیات ہیں ۔جواب دیتے ہوئے میں نے فاضل بریلو ی کا یہ شعر پیش کیا:
میں تو مالک ہی کہوںگا کہ ہو مالک کے حبیب
یعنی محبوب ومحب میں نہیں میرا تیرا
بابرامٹکاف نے چھوٹتے ہی کہا:شرک۔ میں نے بھی برجستہ عرض کیا:آپ دیوبندی عینک سے دیکھ رہے ہیں لہٰذا آپ سے اسی قسم کے اعتراض کی توقع کی جاسکتی ہے۔
شرک ٹھہرے جس میں تعظیم حبیب
اس برے مذہب پہ لعنت کیجئے
باربرامٹکاف سے ملاقات کے بعد میں نے اردارہ کرلیاتھاکہ ان کے تحقیقی مقالے بعنوان Islamic Revival in British India:Deoband, 1860-1900 (Princeton New Jersey,1982) کے ساتویں باب میں ’’بریلویز‘‘ کے بارے میں جو تحقیقات اور تجزیات پیش کیے ہیں ان کا تعاقب کروں۔ ابھی یہ تعاقب مکمل نہیں ہوا ہے ۔ بہر کیف باربرامٹکاف کی تحقیقات کا جائزہ پیش خدمت ہے۔ با ربرامٹکاف کے زیر بحث ساتویں باب کا موضوع ہے:’’  سنّی اسلام میں متبادل رجحانات:اہلحدیث اور بریلوی‘‘
باربرا سے پہلے بھی کچھ جدید مورخ جیسے ڈبلیو سی اسمتھ اور فرانسس رابنسن ’’بریلویوں‘‘ کے ادب کا مطالعہ کیے بغیر ان پر ناقدانہ تبصرہ اپنی تحقیقات میں پیش کرچکے ہیں۔ اسمتھ نے تو بریلو ی مکتب فکر کو جاں بلب یا قریب المرگ بتایا ہے۔ان کا اعتراض ہے:
It (the Barelwi School) expresses and sustains the social and religious customs of a descendent people. It is socially accomodating winking perhaps at the drinking of the wine and the prevailing superstitions, saint worship,and degradation. The Barelwi Clergy accept the pitious villagers of India as they find them; and their Islam is not without qualification or criticism of the actual religion of those villagers.
(یہ (بریلوی مکتب فکر)ایک زوال پذیر جماعت کی معاشرتی اور مذہبی رسوم کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ مکتب فکر سماجی رواداری کا قائل ہے، شراب نوشی اور اس جیسی دیگر عبادات بدیر انگشت نمائی کرتا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی تو ہم پرستی، درویش پرستی اور گمراہیوں میں بھی مبتلا پایا جاتا ہے۔ بریلوی مذہبی  پیشوا ہندوستان کے بیچارے دیہاتیوں کو ان کی اصلی حالت میں قبول کرلیتے ہیں البتہ ان کا اسلام ان دیہاتیوں کے معتقدات اصلی پر تنقید سے خالی نہیں ہوتا۔)
اسمتھ کی اس فرد جرم میں جو الزامات عائد کیے گئے ہیں وہ ہیں توہمات، صوفیائے کرام کی پرستش اور تنزل اور ہندوستانیوں کے قابل رحم دیہاتیوں یعنی گنواروں کو ان کے تمام متعقدات اور رسوم و رواج کے ساتھ اسلامی معاشرے میں گوار کرلینا۔
اسمتھ اور ان کے قبیل کے دوسرے مورخین اور دانشوروں نے دراصل یہ فرض کر لیا ہے کہ محمد بن عبدالوہاب نجدی عالم اسلام میں اصلاحی تحریک کے بانی تھے اور ان کی اصلاحی تحریک کوبرصغیر میں جن مولویوں نے وسعت دی وہ سب ہی عظیم مصلح تھے۔ ان کی نظر میں محمد بن عبدالوہاب نجدی مصلح عظیم، ان کے پیش رو امام ابن تیمیہ قابل تقلید اور جس نے ان ی دعوت قبول نہیں کی اور وہ قدیم مذہب اسلام پر قائم رہا وہ ان کامخالف اور اس کی تنقید لازی، اس کا رو فرض عین۔ اصلاحی تحریکوں کو آسما ن پر بٹھانے والوں نے اب انہیں بنیاد پرست قرار دے دیا ہے اور بنیاد پرستی (فنڈ امنٹل ازم) کو دنیا کی تمام اقوام کے لیے مہلک قرار دے دیا ہے۔
مغربی مورخین کی دانشورانہ روایت کو برصغیر کے بعض مشہور دانشوروں نے بھی قبول کرلیا ہے۔ ان میں ایک نمایاں نام شیخ محمد اکرام کا ہے۔ کوثر سلسلہ کی تیسری کتاب ’’موج کوثر‘‘ میں بریلوی پارٹی کے زیر عنوان فرماتے ہیں اور مزے کی بات ہے کہ مغربی دانشوروں کی عینک کو لمحہ بھر کے لیے نہیں اتارتے۔ 
’’…اہل حدیث نے، ’’فروعات‘‘(جیسے رفع یدین) میں قوم کی دیرینہ روایات کا جس طرح احترام نہیں کیا اور اس معاملے میں قوم کے سب سے بڑے عالم، امام الہند شاہ ولی اللہ کے طریق کار کو ترک کردیاہے، اس سے دو قابل ذکر نتیجے نکلے ہیں، جو دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں اور دونوں میں سے ایک بھی ایسا نہیں جسے وہابی اہل الرائے پسند کرتے ہوں۔ پہلا نتیجہ اصلاحی تحریک کے خلاف زبردست ردعمل اور بر یلوی پارٹی کا آغاز ہے ۔ صوبہ جات متحدہ کی جس بستی (رائے بریلی) میں مولانا سید احمد بریلوی،  پردہ عدم سے ظہورمیں آئے تھے، اس کی ایک ہمنام بستی بانس بریلی میں ۱۲۷۲ھ میں ایک عالم پیداہوئے، مولوی رضا احمد خاں نام۔ انہوں نے کوئی پچاس کے قریب کتابیں مختلف نزاعی اور علمی مباحث پر لکھیں۔ اور نہایت شدت سے قدیم حنفی طریقوں کی حمایت کی۔ وہ تمام رسوم فاتحہ خوانی، چہلم، برسی، گیارہویں،عرس، تصور شیخ، قیام میلاد، استمداد از اہل اللہ (مثلاً یا شیخ عبدالقادر جیلان شیاء ً  للہ) اورگیارہویں کی نیاز وغیرہ کے قائل ہیں۔ ان کے اختلاف صرف وہابیوں سے نہیں بلکہ وہ دیوبندیوں کو غیرمقلد اور وہابی کہتے ہیں۔ بعض بریلوی تو شاہ اسماعیل شہید جیسی ہستیوں کو بھی کافر کہتے یا کم از کم ا ن کی تصانیف اور ان کے ارشادات پر سخت اعتراض اور اظہار نفرت کرنے میں تامل نہیں کرتے۔‘‘؎
مجھے تحقیق نہیں کہ بریلوی پارٹی نام کی جماعت کا یوم تاسیس کیا ہے۔اس کی مجلس منتظمہ کے اراکین کے نام بھی مجھ پر ظاہر نہیں، یہ رجسٹرڈ جماعت تھی یا رجسٹریشن کے سلسلے میں کوتای برتی گئی، عین ممکن ہے یہ حقائق شیخ محمد اکرام کے پاس رہے ہوںاور انہوں نے انہیں ظاہر کرنا مناسب نہ خیال کیا ہو۔ اگر حقائق سے کسی بریلوی پارٹی کا وجود ثابت نہیںتو برصغیرمیں اہل سنت و جماعت کے غالب فرقے کو محض اس لیے بریلو ی پارٹی کانام دے کر اس کی تضحیک کرنا کہاں کی دانشورانہ دیانت داری ہے کہ امام اہل سنت کا چونکہ مولد بریلی ہے لہٰذا اہل سنت خواہ وہ ہندوستان کے کسی گوشے یں پیداہوئے ہوں وہ بریلوی ہوگئے اور ال سنت کے عقائد کو جن پر ان کے اجداد صدیوںسے پابند عمل ہیں‘’’بریلوی پارٹی‘‘ نام دے دیا جائے۔
امام احمد رضاپر سختی اور شدت کے الزام عائد کرنے والے اپنے گریبان میں نہیں جھانکتے کہ وہ خود امام اہل سنت کی تعلیمات پرتنقید کرتے وقت کس قدر غیرمعتدل رویہ اختیار کرتے ہیں۔ شیخ محمد اکرام نے انیسویں، بیسویں اور اس سے قبل کی بھی صدیوں کے مشاہیر علماء اور مذہبی تحریکوں کا بنظر غائر مطالعہ کیا ہے، ان سے منسوب تصنیفات کا بھرپور جائزہ لیاہے لیکن انہوں نے جس طبقہ علماء کو بریلوی پارٹی کا نام دیا ہے کم ازکم ’’موج کوثر‘‘ کے مندرجہ بالا اقتباس سے اس بات کا ذرہ برابر بھی سراغ نہیں لگتا کہ انہوں نے امام اہل سنت کی کسی تحریر کو غور سے پڑھا ہے۔اس لیے وہ ’’بریلوی پارٹی‘‘ کے ضمن میں اپنی تحقیقات اور نتائج کو مستند بنانے کے لیے کسی تحریری دستاویز یا شواہد کا حوالہ دینے سے قاصر رہے ہیں لیکن امام اہل سنت اور علماء اہل سنت وجماعت کے مطالعے کے سلسلے میںاس طرح کی علمی روش کی ان سے توقع کرنا بھی بے سود ہے کیونکہ ان کا مقصد اہل سنت وجماعت سے منحرف علماء کی توقیر کرنا ہے اور ان کے شدید حملوں سے اسلام و عقائد اہل سنت وجماعت کا دفاع کرنے والوں کی تذلیل کرنا۔
اس طرح کی غیر علمی روش کے دام میں بعض مغربی دانشور بھی آ گئے ہیں اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے بھی شیخ اکرام جیسے کسی مشرقی دانشور کی فردجرم کو انگریزی زبان میں منتقل کردیا ہے۔ تحقیق اور                 مطالعے کی زحمت گوارہ نہیں کی ہے ۔جب تحقیق کے اصو ل اختیار ہی نہیں کیے جائیںگے تو اس طرح کے محققین کے اخذ کیے ہوئے نتائج پر کیسے اعتماد کیاجاسکتاہے۔
جدید تحقیق کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے موضوع سے متعلق کتابیات مرتب کی جاتی ہے۔ اگر تاریخی موضوع پر تو کتابیات کی فہرست کو کم از کم تین اقسام میں تقسیم کیاجاتا ہے۔ بنیادی ماخذ، ثانوی مآخذ اور اخبارات وجریدے و رسالے۔اب باربرامٹکاف کے طریقہ تحقیق پر نظر ڈالتے ہیں۔ زیر بحث کتاب در اصل دیوبند پر ہے۔ دیوبند کے علاوہ متبادل رجحانات کے تحت انہوں نے دو باب (سات اور آٹھ) لکھے ہیں۔ ساتویں باب میں اہل حدیث اور بریلویز سے متعلق اپنی تحقیقات پیش کی ہیں اور آٹھویں باب میں علی گڑھ تحریک اور ندوۃ العلماء کو موضوع بحث بنایاہے۔ اہل حدیث پر ۳۲صفحات قلمبند کیے ہیں اور بریلویز پر ۱۹ صفحات۔ بریلویز سے متعلق طبقہ میں ۳۲ حواشی یا حوالے ہیں اور ان حواشی میں جن کتابوں کاحوالہ ہے ان کی تفصیل جس ترتیب سے وہ آتے ہیں حسب ذیل ہے:
۱۔    ابویحییٰ انعام خان نوشیروی :تراجم علماء حدیث،ہندو،دہلی،۱۳۵۶ھ/۱۹۳۷ء
۲۔    ٹائٹس:اسلام ان انڈیا اینڈپاکستان، کلکتہ ۱۹۵۹ء
۳۔    مولاناظفر الدین رضوی:حیات اعلیٰ حضرت، کراچی ۱۹۳۸ء 
۴۔    رحمان علی :تذکرہ علمائے ہند (مترجم محمد ایوب قادری)کراچی ۱۹۶۴ء
۵۔    ای۔آر۔نیو ، ڈسٹرکٹ گزیٹئرس آف یونائیٹیڈ پراونسز آف آگرہ اینڈ اودھ XIIایٹہ (الہٰ آباد۱۹۱۱ء)
۶۔    ظہور احمد اظہر:’’بریلوی‘‘دائرہ معارف اسلامیہ، لاہور ۱۹۶۲ء
۷۔عبدالحکیم خاں شاہجہانپوری:اعلیٰ حضرت بریلوی کا فقہی مقام، لاہور۱۳۹۱ھ/۱۹۷۱ء
۸۔    سررچرڈ۔ایف۔برٹن‘پرنسپل نیریٹو ٓف اے پلگریمج ٹو المدینہ اینڈ مکہ ،نیویارک، طبع ثانی۱۹۶۴ء
۹۔    مولانااحمدرضاخاں:حسام الحرمین، لاہور، طبع ثانی ۱۹۷۵ء
۱۰۔    محمد عبدالرئوف جگن پوری:براۃ الابرار ان مکائد الاشرار، بجنور ۱۹۳۳ء
۱۱۔    محمدمنظور نعمانی :دیوبند اور بریلی کے اختلافات نزع پر فیصلہ کن مناظرہ،سنبھل، ۱۹۶۶ء 
۱۲۔حافظ نذر احمد :جائزہ مدارس عربیہ مغربی پاکستان، لاہور،۱۹۷۲ء
اس ببلیو گرافی میں فاضل بریلوی کی ایک ہی تصنیف’’حسام الحرمین‘‘ درج ہے۔ایسا نہیں ہے کہ باربرا ان کی تصنیفات سے واقف نہیں۔صفحہ ۳۰۱ کے حاشیہ نمبر ۸۶ ر ظہور احد کے دائرہ معارف اسلامہ میں ’’بریلوی‘‘عنوان پر لکھے گئے مضمون کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتی ہیں کہ ملاحظہ ہو ا س مضمون کے ساتھ دی ہوئی مفید ببلیو گرافی۔ البتہ خود انہوں نے اس سے استفادہ کرنے کی کوشش نہیں ی۔ اگر باربرا سواد اعظم اہل سنت وجماعت کو امام اہل سنت کے مولد کی رعایت سے بریلوی کہنے ہی پر اصرار کرتی ہیں تو ان پر لازم آتاتھاکہ وہ بریلویوں کے عقائد کی صحیح تفہیم کے لیے بنیادی ماخذ کی حیثیت سے امام اہل سنت کی تحریروں کا مطالعہ کرتیں لیکن انہوں نے اس مقصد کے لیے تبلیغی جماعت کے مولوی محمد منظورنعمانی کی متنازعہ فیہ کتاب ’’دیوبند اور بریلی کے اختلافات نزع پر فیصلہ کن مناظرہ‘‘ پر زیادہ اعتماد کیا۔ ظاہر ہے انہیں اپنی تحقیقات میں لڑکھڑا ناہی تھا۔ سیڑھی کا انتخاب ہی اصول تحقیق کی رو سے غلط تھا۔ لہٰذا جہاں تک انہیں مولوی منظور نعمان کی گمراہ کن گلیا ں پہنچا سکتی تھیں وہاںتک انہیں پہنچادیااور اب وہ بھی تاریکی میں کھڑی ہیں۔ باربرا مٹکاف کو چونکہ یہ ثابت کرناتھاکہ ان کے ہر دل عزیز موضوع سخن ’’دیوبند‘‘ سے امام اہل سنت کو بڑابیر تھا لہٰذا انہوں نے اس مقصد کے لیے موزوں ترین کتاب ’’حسام الحرمین‘‘پر ہاتھ ڈالا اور صاف کیا۔ ثانوی ماخذوںمیںبھی اہل سنت وجماعت کے علماء میں سے صرف مولانا ظفر ا لدین کی کتاب ’’حیات اعلیٰ حضرت‘‘ اورعبدالحکیم خاں شاہجانپوری کی کتاب ’’اعلیٰ حضرت بریلوی کا فقہی مقام‘‘ انہیں مل سکیں۔ لہٰذا بہت احتیاط کے ساتھ یہ کہاجاسکتاہے کہ باربرا مٹکاف کے ببلیو گرافی کے انتخاب میںبھی جانبدارانہ رویہ صا ف نظر آتاہے۔اس رویے کے بعد وہ’’بریلویز‘‘کامعروضی مطالعہ کیوں کر پیش کرسکتی تھیں۔اسی لیے یہ اعتراض کیاجاسکتاہے کہ باربرا مٹکاف ’’بریلویوں‘‘کا مطالعہ دیوبندی عینک سے کرتی ہیں، لکھتی ہیں:
I have focussed in this book on what I call "the reformist ulama", of whom the most important group is that associated with a theologicl academy founded in the town of Deoband in 1867. I also include as  reformists the less  numerous  Ahl-i-Hadis(Chapter  VI) and the ulama of Nadwah (Chapter VII). Their opponents, the Barelwi ulama or the Ahl-i-Sunnat wa Jamaat (Chapter VI) adhered to a more custom-laden religious practice and a more intercessory style of  religious leadership linked to the peers of the medieval tombs. In fact they also thought of themselves as reformists (that is,as scholars engaged in tajdid or renewal) and indeed-even if I and the Deobandis  begrudge them the title of reformers-in their self-consciousness and their concern with disseminating fmiliarity with the Law, they  were, in the end, close to those they opposed.
(اس کتاب میں میں نے اصلاح پسند علماء پر تفصیل سے بحث کی ہے جن کی سب سے اہم جماعت وہ ہے جو ۱۸۶۷ء میں قصبہ دیوبند میں قائم کردہ دینی تعلیمی مرکز سے وابستہ ہے۔ تعداد میں نسبتاً کم جماعت اہل حدیث (چھٹا باب) اور اہل ندوۃ (ساتواںباب) کو بھی میں نے اصلاح پسندوں کی صف میں رکھا ہے۔ ان کی حریف جماعت یعنی بریلوی علماء یا اہل سنت وجماعت (باب۶)رسوم ورواج سے بوجھل مذہبی روایت اور قرون وسطیٰ کے پیروں اور ان کے مزارات سے وابستہ توسلی مذہبی قیادت کے پیرو ہیں۔ درحقیقت و ہ خود کو مصلح (یعنی تجدیدمیں مصروف دانشور) تصور کرتے ہیں اور بیشک اگر میں اور دیوبندی انہیں مصلح ماننے میں بخل بھی برتیں تب بھی اپنی خود شعوری اور قانون شریعت سے آگاہ کرنے کے لیے اپنی فکر کی وجہ سے بالآخر وہ اپنے مخالفین کے شانہ بشانہ کھڑے ہوئے ہیں۔)
تحقیق کے لیے انتخاب موضوع پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔ اصلاحی علماء بالخصوص دیوبندی علماء پر انہوں نے بھرپور روشنی ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ دوسرے اصلاحی گروہوں مثلاً ندوۃ العلماء لکھنؤ اور اہل حدیث کا بھی ہمدردانہ مطالعہ کیا ہے۔ دیوبند سے متعلق تاریخی مطالعہ اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا جب تک اہل سنت وجماعت کے تسلسل کو توڑنے کی کوشش کرنے والے دیو بندی مکتب فکر کو دعوت اصلاح دینے والے امام اہل سنت اور دیگر کئی علمائے اہل سنت کی روش کا ذکر نہ ہو۔ لہٰذا موضو ع تحقیق کی وجہ سے باربراکی یہ مجبوری تھی کہ وہ ’’بریلویز‘‘ کامطالعہ کریں لیکن غالباً انہیں سمجھادیاگیا تھاکہ نہ تو آپ بریلویز کی کتب کا مطالعہ کریں نہ ہی بریلوی اداروں میں تشریف لے جائیں اور نہ ہی بریلوی علماء سے کچھ کلام کریں۔انہوں نے Acknowledgment کے زیر عنوان ابتدائیہ میں اعتراف کیا ہے کہ وہ اپنی تحقیق کے سلسلے میں متعدد بار دیوبند گئیں، وہاںقیام کیا اور وہ اس وقت کے دار العلوم دیوبند کے مہتمم قاری محمد طیب قاسمی اور ان کے اہل خاندان کی مہمان نوازی اور اپنے علمی کام میں ان کی دلچسپی کے لیے اظہار ممنونیت کرتی ہیں۔اس کے علاوہ وہ مظاہر العلوم سہارنپور، مدرسۃ الاصلاح سرائے میر، ندوۃ العلماء ،فرنگی محل لکھنؤاور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی بھی بغرض مطالعہ گئیں۔ ا ن تمام اداروں کے عملے کی بھی و ہ بیحد ممنون ہیں  ---البتہ وہ بریلی نہیں پہنچ سکیں۔ظاہر ہے جو دیوبند پہنچ جائے گا اسے بریلی سے اس قدر متعصب بنادیاجائے گا کہ اس کے وہاں جانے سے پرجلیںگے۔دیوبند اور دیگر اداروں میں وہ جہاں بھی گئی ہوںگی انہیں علماء اہل سنت کے بارے میں کوئی مثبت باتیں نہیں بتائی گئی ہوںگی۔ بالخصوص دار ا لعلوم دیوبندجہاں وہ متعدد ار گئیں وہاں انہیں دیوبندی نظریات میں ڈھلی ہوئی نظری تعصب کی عینک دے دی گئی اور انہوں نے علماء اہل سنت کے اہم ترین دینی مرکز اور مکتب فکر کو اسی طرح دیکھا جس طرح دیو بند ی عینک سے دیکھاجاسکتاتھا۔ بیسویں صدی کے آخری نصف حصے کے بھی دو دہوں سے کچھ بیش حصہ گزرجانے کے بعد بھی جبکہ سماجی علوم نے بہت ترقی کرلی ہے اور تاریخ میں معروضیت کے تقاضوں کو پوراکرنے کے لیے متعدد اصول وضوابط بن چکے ہیں، کسی مغربی مفکر کا انہیں نظر انداز کرناقابل معافی نہیں۔
اوپر باربرامٹکاف کے مقدمے سے جو طویل اقتباس پیش کیاگیا اس میں بریلویز کو دیوبند اور دیگر اصلاحی تحریکوں کا ’’مخالف‘‘ بناکرپیش کیاگیاہے۔ا ن پر الزام عائد کیاگیا ہے کہ وہ رسموں سے لدے ہوئے مذہبی طریقہ عمل کے پابند ہیں اور یہ کہ وہ عہد وسطی کے مزارات سے منسلک پیرو کی متوسلانہ طرز کی مذہبی قیادت سے وابستہ تھے۔بھاری دل سے وہ یہ اعتراف کرتی ہیں کہ حالانکہ انہیں اور دیوبندیوں کویہ بات کچھ پسند نہیں آئے گی کہ بریلویز اپنے کوریفارمسٹ کہتے ہیں تاہم شریعت سے واقفیت اور شعوری سطح پر اس کے نفاذ کے متعلق فکر کی بناپر وہ بھی ایک طرح سے اپنے مخالفین یعنی دیوبندیوں سے قریب تھے بہ الفاظ دیگر وہ بھی امت اسلامی میں اصلاح کا بیڑ ہ اٹھائے ہوئے تھے۔اس طرح کا اظہار خیال کرتے وقت باربرا کو ناگواری تو ضرور محسوس ہوئی ہے اور وہ سمجھتی ہیں کہ جن سے انہوں نے بریلویوں کے مطالعے کے لیے عینک مستعار لی ہے انہیںبھی اظہار حقیقت یعنی اصلاح امت کے لیے علماء اہل سنت کی کاوشوں پر رشک آئے گا لیکن آگے چل کر کتاب کے اس با ب میں جہاں بریلویز کا کسی قدر تفصیل سے جائزہ لیاگیاہے وہ ایک مرتبہ پھر بریلویز کے اصلاحی مشن کی طرف سے آنکھیں موند لیتی ہیں۔ وہابی، دیوبندی، اہل حدیث عینک ان کی آنکھوں پر صاف نظر آتی ہے۔ ملاحظہ ہو باب ۷ میں ’’دی بریلویز‘‘کی ذیلی سرخی کے ساتھ ابتدائی پیرگراف کی یہ عبارت:
The Barelwi ulama, the last of these three groups (Deoband, Ahl-i-Hadis and Barelwis) of ulama to crystallize,is always described by supporters and opponents as a reaction to the other two.They did, however, opperate,as did the other ulama as a popularly supported leadership,detached from political activity, offering social and religious guidance to their followers. Like them, too, they were committed to what they   deemed a correct interpretation of the Law. What made them unique was that they used their position and their legal scholarship to justify the meditational, custom-laden  Islam, closely tied to the intercession of the pirs of the shrines, that was characteristic of the area.
تفصیلی بحث کے موضوع ان تین جماعتوں سے آخری جماعت یعنی بریلوی علماء کو اس کے حامی اور مخالف دونوں ہی بقیہ دونوںجماعتو ں کے خلاف ایک ردعمل قرار دیتے ہیں۔ تاہم دوسرے علماء کی طرح سیاسی سرگرمیوںسے الگ تھلگ اپنے پیروکارو ںکو سماجی ومذہبی رہنمائی دینے والی معروف قیادت کی حیثیت سے یہ جماعت کام کرتی رہی۔ دوسری جماعتوں کی طرح وہ بھی قانون شریعت کے ان مفاہیم کے پابند تھے جنہیں وہ درست سمجھتے تھے جو بات انہیں دوسروںسے ممتاز کرتی ہے وہ یہ کہ انہوں نے اپنے رتبے اور علم شریعت کو خانقاہوں کے پیروں کے توسل سے گہری وابستگی رکھنے والے توسلی اور رسوم و رواج سے بوجھل اسلام کی توجیہہ میں صرف کیا)
اس فرد جرم  ہی پر باربرا نہیں رک جاتیں بلکہ عقائد اہل سنت بھی بیان کرتی ہیں، اس کے لیے انہوں نے امام اہل سنت کی کسی تصنیف کا مطالعہ نہیں کیا ہے بلکہ عقائد اہل سنت کے بیان کے لیے ایک اہل حدیث (ابو یحییٰ نوشہردی) کے بیان کو نقل کر دیا ہے۔ لکھتی ہیں:
They (the Barelwis) believed,wrote a member of the Ahl-i Hadis, "in reading Fatihah,in holding  observances on the fortieth day after a death or its anniversary;in celebrating the giyarhwin of Shaikh Abdul Qadir and the urs of  other saints;in meditation on the image of the Shaikh; in standing during the celebration of the prophet's birthday; and in calling on saints for help.
(متعدد اہل حدیث کے مطابق و ہ (بریلوی) فاتحہ خوانی، کسی کے انتقال کے بعد چہلم یا برسی منانے، شیخ عبدالقادر کی گیارہویں کی تقریب منعقد کرنے اور دیگر بزرگوں کے عرس کرنے، شیخ کا تصور کر کے مراقبہ کرنے، رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کے یوم ولادت کی تقریب میں میلاد کے دوران قیام کرنے اور بزرگوں اور پیروں سے استمداد طلب کرنے میں اعتقاد رکھتے ہیں)
باربر ا مخالفین اہل سنت وجماعت کے بیانات کو بغیر کسی قسم کی تحقیق وتنقید کے قبول کرلیتی ہیں۔ ہمیں ا س سے بحث نہیں کہ وہ کیوں دیوبند یا وہابی یا اہل حدیث سے قریب ہیں۔ ہماری تشویش یہ ہے کہ وہ ان کے عائد کیے ہوئے الزامات پر پور اپورا اعتماد کرتے ہوئے غلط نتائج اخذ کر لیتی ہیں اور ان کی تحقیقات سے جدید عہد کے دانشوروں کے ذہنوں میں اہل سنت وجماعت، ان کے امام اور علماء کے بارے میں غلط تصورات داخل ہو سکتے ہیں۔اہل حدیث عالم کے بیان کو ختم کر کے باربرا نتیجہ اخذ کرتی ہیں:
Like the other ulama, they  opted to turn inward, cherishing religion as an evermore important content of their identity. But in a period widely held to be threatening to their culture, they blamed not only the  colonial ruler but perhaps even more the reformist Muslims.They wanted to preserve Islam unchanged: not Islam as it was idealized in texts or the historical past, but Islam as it had evolved to present. They were, thus,an oppositional group as much as were the reformers, not  even as one might think-representing a continuity with the past but rather , in their  very self- consciousness representing a departure from it؎  
(دوسر ے علماء کی طرح انہوں نے باطن کی طرف رخ اختیارکیا اور ہمیشہ دین کو اپنی شناخت کے ایک اہم عنصر کی حیثیت سے عزیز جانا۔ لیکن ایک ایسے زمانے میں جو ان کے کلچر کے لیے مہلک گردانا جاتا ہے۔ انہوں نے صرف استعماری حکمرانوں کو ہی نہیں بلکہ غالباً ان سے بھی زیادہ اصلاح پسند مسلمانوں کو مورد الزام ٹھہرایا۔  وہ اسلام کو اس کی اصل حالت میں محفوظ رکھنچاہتے تھے۔ یہ وہ اسلام نہیں تھا جسے اصل عبارتوں یا ماضی کی تاریخ میں مثالی حیثیت حاصل تھی بلکہ یہ اسلام کی وہ شکل تھی جو ارتقاء کی منزلوں سے گزرکر موجودہ دور تک پہنچی تھی۔ اصلاح پسندوں ہی کی طرح بریلوی جماعت بھی ایک مخالف جماعت تھی لیکن ایسا سوچا جا سکتا ہے کہ یہ جماعت ماضی کے تسلسل کی نمائندگی کرنے کے بجائے اپنی انتہائی خود شعوری کے بموجب اس تسلسل کی روایت سے انحراف سے عبارت تھی۔)
’’ردّ بدعات ومنکرات‘‘ کے عنوان کے تحت مولانا یٰسین اختر مصباحی نے امام احمد رضا کی تصنیفات سے ایسی عبارتیں پیش کی ہیں جن سے مغربی دانشوروں کے ان الزامات کی تردید ہو جاتی ہے کہ امام احمد رضایا بریلوی علماء نے اسلام کو جس شکل میں پایا اسے تھوڑی بہت تنقید کے ساتھ گوارہ کرلیا۔ صورتحال اس کے بالکل خلاف تھی جیساکہ مولانا احمد مصباحی نے ’’امام احمد رضا اور رد بدعات ومنکرات‘‘ کی تقریب میں لکھا ہے کہ ’’تعزیہ داری، مزارت پر عورتوں کی حاضری‘ مزامیر کے ساتھ قوالی، اعراس کی بے اعتدالی، کردار و اطوار میں حکم شرع کی خلاف ورزی، وہ کون سی بدعت قبیحہ اور وہ کون سا منکر وممنوعہ ہے جس کی اس (فاضل بریلوی) نے ہمنوائی کی ہو۔‘‘