کنزالایمان اور افکار شاہ ولی اللہ دہلوی
-----n پروفیسر ڈاکٹر غلام یحییٰ انجم
ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے۔ اس ملک میں ہزاروں رنگ ونسل کے لوگ بستے ہیں۔ سب کے مذاہب جدا گانہ ہیں ، ہندو مسلم سکھ عیسائی جین بودھ دھرم کے پرستارہندوستان میں موجود ہیں ۔ ہر مذہب کے پرستاروں میں مختلف افکار ونظریات کے حامل لوگ پا ئے جاتے ہیں۔ اس روئے زمین پر شاہد ہی ایسا کوئی مذہب ہو جس کے اصولوں پر تمام رنگ ونسل کے لوگ یکساں اتفاق رکھتے ہوں یہ امر واقعہ ہے اس دنیا میں جتنے مذاہب پا ئے جاتے ہیں سبھی ایک دوسرے سے مختلف ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ ایک دوسرے مذاہب کے پرستاراپنے آپ کو سب سے اعلیٰ وارفع سمجھتے ہیں تمام مذاہب میں باہمی اتحاد تو غیر ممکن ہے ہی ایک مذہب کے ماننے والے بھی نظریاتی طور پر باہم متحد نہیں ہندو دھرم ہی کو لیجئے اولاً تو اس مذہب کا کوئی بانی نہیں جتنے متضاد نظریات اس مذہب میں پا ئے جاتے ہیںشاید ہی کسی اور مذہب میں پا ئے جاتے ہوں ۔جو پتھروں کی پوجا کرتے ہیں وہ بھی اپنے کو ہندو کہتے ہیںجو پتھروں کی پو جا پر یقین نہیں رکھتے انہیں بھی ہندو کہا جاتا ہے ، رام کی مالا جپنے والے بھی ہندو ہیں اور راون کو اپنا مذہبی رہنما تسلیم کر نے والے بھی ہندو ہیںاس مذہب کے تین اہم فر قے ویشنو ، شیو اور شاکیت ایک دوسرے سے مختلف ہیں ۔ہندو مذہب میں جتنے نظریات وخیالات پائے جاتے ہیں اس کی مثال اور دوسرے کسی مذہب میں مشکل سے ہی ملے گی۔ راجندر نارائن لا ل بنارسی بنارس ہندو یونیورسٹی لکھتے ہیں ۔
انتہائی آستک شنکر آچاریہ کے پیرو کار بھی ہندو ہیں اور ناستک جینی اور بائیں بازو والے کمیونسٹ بھی ہندو پیاز لہسن تک نہ کھانے والے بھی ہندو ہیں اور انتہائی ناپسندیدہ چیزیں کھانے والے اوگھڑ بھی ہندو ہیں ،پیتامبر پیلے کپڑے پہننے والے سادھو بھی ہندو ہیںاور مادر زاد ننگے رہنے والے سادھو بھی ہندو ہیں ویشنو میں گوشت خوری منع ہے شاکتوں میں گوشت خوری جائز ہے ۔ ہندو اصولی طور پر توحید پرست ہیں اور عمل سے بہت سے معبودوں کو ماننے والے ( بہو دیو وادی یا مشرک ) ہیں ، اصولی طور پر ہندووں کا ایشور کا تیار کردہ دھرم گرنتھ وید ہے لیکن شمالی بھارت میں واقعی طور پر رام چرت مانس ہے جنوب میںہندووں کے تصورات بالکل مختلف ہیں ۔‘‘(۱)
سطور بالا میں بطورمثال صرف ہندو دھرم کا ذکر کیا گیا ہے یہی حال دوسرے مذاہب کا بھی ہے ۔ مذہب اسلام آسمانی مذہب میں سے ہے اور یہ مذہب پو ری دنیا کے انسانوں کے لئے ہے اس مذہب میں جس خدا کی عبادت کا حکم دیا ہے وہ رب العالمین ہے اور جس پیغمبر کی اتباع اور پیروی کا حکم دیا گیا ہے وہ رحمۃ اللعالمین ہے ۔یہی مذہب دین فطرت ہے اور تمام اللہ کے بندوں کے لئے ہے ۔پنڈت وید پر کاش اپادھیائے نے کالکی اوتار ( ہادی عالم )کے نام سے ایک مقالہ لکھا جس میں انہوں نے واضح لفظوں میں ہندووں کو اس مذہب کو قبول کر لینے کی دعوت دی ۔
’’ہندو مذہب کے ماننے والے جس کالکی اوتار کا انتظار کر رہے ہیں وہ در حقیقت محمد ﷺ کی ذات اقدس ہے جس کا ظہور آج سے چودہ سو سال قبل ہو چکا ہے لہٰذاہندووں کو اب کسی ’’کالکی اوتار ‘‘ کے انتظار میں وقت ضائع نہیں کر نا چا ہئے اور فوراً اسلام قبول کر لینا چا ہئے ‘‘(۲)۔
مذہب اسلام ہی خدا کا وہ واحد مذہب ہے جو تا قیام قیامت رہے گا اب نہ کسی نئے مذہب کے آنے کی تو قع ہے اور نہ ہی کسی پیغمبر کے آنے کا امکان اس مذہب کی تکمیل الیوم اکملت لکم دینکم کے ذریعہ رب العزت نے پیغمبر آخر الزماں احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ ﷺ پر فر مادی ۔ اس مذہب کے جتنے پیر وکار ہیں سب کو اتحاد واتفاق کے ساتھ مذہب اسلام کی اتباع کر لینی چا ہئے اور جس طرح صحابہ کرام اور تابعین عظام اخلاص دل کے ساتھ اسلام کی پیروی کر کے خیر الناس اور ان کا دورخیر القرون کہلانے کا مستحق ہو ا اسی طرح بعد کے ادوار میںپیروان اسلام کو بھی کرنا چا ہئے مگر ایسا نہ ہو سکا مرور ایام کے ساتھ پیروان اسلام کے ذہن وفکر میں تبدیلیاں ہو تی گئیں اور وہ تما م چیزیں جسے صحابہ وتابعین نے جزء ایمان سمجھاوہ بعد کے مسلمانوں نے غیر ضروری سمجھ کر اسے ترک کردیا۔کتاب وسنت کی ایسی تشریحیںکی گئیں جس سے مختلف نظریات ابھر کر سامنے آگئے اور یہ سلسلہ صدیوں تک چلتا رہا دور آخر میں ملت اسلامیہ کی اس نظریاتی کشمکش کو فروغ دینے میں انگریزوں نے اہم کردار ادا کیا اور ملت اسلامیہ کا رہا سہا شیرازہ منتشر کر نے کی انہوں نے ہرممکن جد وجہد کر ڈالی اپنی اسی سازش کا سر بزم پردہ چاک کر تے ہو ئے انگریز مصنف سر جان میلکم لکھتا ہے ۔
’’ہماری حکومت کی حفاظت اسی پر منحصر ہے کہ جو بڑی جماعتیں ہیں ان کو تقسیم کر کے ہر جماعت کو مختلف طبقوں اور فرقوں میں ٹکڑے ٹکڑ ے کر دیا جائے تا کہ وہ جدا رہیں اور ہماری حکومت کو متزلزل نہ کر سکیں۔‘‘(۳)
انگریز اپنی اس سازش میں پو ری طرح کامیاب رہے اور مسلمان باہمی اختلاف وانتشار کا جس طرح شکار ہو ئے اس سے ہندوستان کا ہر باشندہ واقف ہے ۔اسلام کی تاریخ میں اسلامی اجتماعیت کو پارہ پارہ کر نے کے لئے ہندوستان میں شیعیت کا فتنہ رو نما ہوا شیخ احمد سر ہندی نے اور شاہ عبد العزیز محدث دہلوی نے اپنی تحریروں سے رسالہ رد روافض اور تحفہ اثنا عشریہ لکھ کر اس فتنہ کو سرد کیا حضرت شیخ سر ہندی نے اپنے مکتو بات میں باضابطہ اپنے متبعین وپیروکاروں کو مذہب اہل سنت پر عمل پیرا ہو نے کی درج ذیل الفاظ میں تا کید فرمائی ۔
’’ اہل سنت کے معتقدات پر مدار اعتقاد رکھیں اور زید وعمر کی باتوں پر تو جہ نہ دیں اور مذہبوں کے خود ساختہ خیالات وتوھمات پرمدار کار رکھنا خود کو ضائع کرنا ہے فر قہ ناجیہ کی اتباع ضروری ہے تا کہ امید نجات پید اہو ‘‘ (۴)
فتنوں کے ظہور کا یہ سلسلہ بند نہیں ہوا آئے دن نئے نئے فتنے جنم لیتے رہے اسلام کی اجتماعیت کو پارہ پارہ کر نے کے لئے جو رہی سہی کسر تھی اسے انگریزوں نے پوری کردی، انگریزوں کے ہندوستان میں قدم جماتے ہی مزید کئی نئے فتنوںنے جنم لیا یہ فتنہ آٹھارویں صدی کے آغاز میں ہندوستان میں فتنہ ٔ وہابیت نمودار ہوا یہ فتنہ ابن تیمیہ حرانی اور شیخ محمد بن عبد الوہاب نجدی کے عقائد ونظریات پر مشتمل تھا جس کی اشا عت ہندوستان میں شاہ اسماعیل دہلوی اور سید احمد رائے بریلوی نے کی اور اس فکر کی اشاعت کے لئے تقویۃ الایمان جو در اصل کتاب التوحید مصنفہ محمد بن عبد الوہاب نجدی کا چر بہ ہے اردو میں شائع کیا ۔اور یہ کام ۱۸۳۸ء میں رائل ایشیاٹک سو سائٹی کلکتہ نے انگریزوں کی سر پرستی میں انجام دیا،ہزاروں کی تعداد میں یہ کتاب مفت تقسیم ہو ئی اس کتاب کے مباحث کی تردید میں سیکڑوں کتابیں لکھی گئیں جن میں خود مصنف کے خاندان کے لوگ شامل تھے ۔مولوی مخصوص اللہ جو مولوی رفیع اللہ کے صاحبزادے اور حضرت شاہ ولی اللہ کے پوتے تھے انہوںنے بھی معید الایمان کے نام سے تقویۃ الایمان کا رد لکھا ان کی تر دیدی تحریر منظر عام پر آتے ہی پھر جو یہ سلسلہ دراز ہوا تو ہو تا ہی چلا گیا اور کسی نہ کسی شکل میں اس کتاب کے مندرجات کی تر دید صدیاں گزر جانے کے بعد ہنوز علمائے حق کی زبان وقلم سے جاری ہے ۔شاہ اسماعیل دہلوی ولی اللٰہی خاندان کے ایک فرد ضرور تھے مگر فکر ولی اللٰہی جسے اس دور میں حق کا معیار سمجھا جاتا ہے اور جس پر علمائے حق عمل پیرا ہیں اس سے وہ کوسوں دور تھے۔
الغرض یہ اسلام مختلف نشیب وفراز سے گذرتا ہوا ہم تک پہنچا کبھی یزیدی فتنہ نے اس کی شکل کو مسخ کیا تو کبھی سبائیوں نے اس کا چوکھا رنگ دھندھلا کیا ، کبھی قادیانیت نے اس کے نقش ونگار کو پھیکا کیا تو کبھی وہابیت اور غیر مقلدیت نے اس کے مسلمہ اصولوں کے ساتھ کھلواڑ کیا ایک زمانہ تو وہ آگیا کہ نبی کو مردہ ماننا صرف نہیں بلکہ مٹی میں مل جانا، نبی کو مجبور محض ماننا، نبی کے علم کو شیطان کے علم سے کمتر جاننا ضروریات دین سے سمجھا گیا اور پیروکاروں کو یہ بتایا گیا اگر بالفرض بعد زمانہ نبوی ﷺ بھی کوئی نبی پیدا ہو تو پھر بھی خاتمیت محمدی ﷺ میں کوئی فرق نہیں آئے گا اور یہ بھی اسلامی عقیدہ بتا یا گیا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے لئے علم غیب بالواسطہ کل ہو گا یا بعض کل تو عقلاً محال ہے اور اگر بعض ہے تو ایسا علم ہر صبی ( بچے ) مجنوں ( پاگل ) حیوانات بہائم ( چوپایوں ) کوبھی حاصل ہے اس میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام ہی کی کیا تخصیص ہے ؟ ۔نبی رحمت کی رحمت اللعالمینی پر بھی قینچی چلا ئی گئی اور یہ کہا گیا وہ عالمین کے لئے نہیں بلکہ صرف اور صرف مسلمانوں اور مسلمانوں میں وہ لوگ جو مکلف بہ اسلام ہیں صرف ان کے لئے رحمت ہیں الغرض ان باطل نظریات نے انیسویں صدی میں اسلام کا چہرہ بری طرح مسخ کر کے رکھ دیا تھا اور اس صراط مستقیم پر بد عقیدگی کی ایسی دبیز چادر ڈالدی گئی کہ اصل اسلام کا راستہ کیا ہے لوگ تقریبا ً بھول گئے ۔ انیسویں صدی میں جن فتنوں نے جنم لیا اس کے عقائد ونظریات یہ تھے ۔ ایک غلط فہمی علمائے دیوبند میں یہ جاتی ہے کہ وہ دیوبندیت کو عصر حاضر میںفکر ولی اللٰہی کا تر جمان سمجھتے ہیں جب کہ یہ سر اسر حقائق کے خلاف ہے کیوں کہ خود مسلک دیوبندکے اکابر علماء اس سے انکار کر تے ہیں وہ کہتے ہیں کہ
’’میرے نزدیک ( دیوبندیت )خالص ولی اللٰہی فکر بھی نہیں اور نہ کسی خاص خانوادہ کی لگی بندھی فکر ودولت متاع، میرا یقین ہے کہ دیوبند یت جن کی ابتدا میرے خیال میں سیدنا الامام مولانا قاسم صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اور فقیہ اکبر مولانا رشید احمد گنگوہی سے ہے۔۔۔ اس لئے اس دیوبندیت کی ابتدا حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ سے کر نے کے بجائے مذکورہ بالا دو عظیم انسانوں مولانا قاسم صاحب نانوتوی اور مولانا رشید احمد گنگوہی سے کرتا ہوں کیوں کہ دیوبندیت کے تو صرف یہی دو اما م وقت ہیں ‘‘(۵)
اب یہ بات سطور بالا کی تحریروں سے واضح ہو گئی فکر ولی اللٰہی نہ تو شیعیت کی علمبر دار ہے اور نہ ہی فکر نجدیت ودیوبندیت کی غماز اور نہ ہی قادیانیت کی رہنما ۔فکر ولی اللٰہی اپنے اصول ونظریات کے اعتبار سے زیادہ تر فکر رضا سے ہم آہنگ ہے جسے اس زمانہ میں اہل سنت وجماعت ( بریلویت ) سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔
شاہ ولی اللہ دہلوی کی ولادت ۴ شوال ۱۱۱۴ھ کو چہار شنبہ کے دن طلوع آفتاب کے وقت ہو ئی ان کی ذات ستودہ صفات کے باعث ہی خاندان تاریخی شہرت واہمیت کا حامل بنا۔والد ماجد شیخ عبد الرحیم دولت مند اور صاحب اقتدار نہ تھے متوسط در جہ کے انسان تھے ۔تو کل پر گذربسر ہوتا تھا ،ہر وقت خدا پر نظر رہتی، اس کا نتیجہ تھا کہ ہمیشہ خوش حال رہتے، آپ نے اپنے فرزند کی اس طرح اعلیٰ سطح پر تعلیم وتر بت فر مائی کہ وہ اپنے زمانے کے سر بر آوردہ علماء میںشامل ہو گئے ،ہندوستان میں جس طرح آپ نے اکابر علم وفن سے اخذ فیض کیا وہ تو مسلم ہے ہی اس کے علاوہ آپ بقول شاہ ابوا لحسن زید فاروقی ۔
’’ شاہ ولی اللہ علم ظاہر وعلم باطن میں کمال حاصل کر نے کے بعد حرمین شریفین ۱۱۴۳ ھ میں تشریف لے گئے وہاں علم ظاہر علمائے اعلام سے خاص کر علامہ ابو طاہر جمال الدین محمد بن بر ہان الدین ابراہیم مدنی کردی کورانی شافعی سے درجہ اکمال وتکمیل کو پہنچایا اور باطن کا تصفیہ تزکیہ صیقل اور جلا بیت اللہ المبارک ، آثار متبرکہ ، مشاہد مقدسہ ، اور روضہ مطہرہ علیٰ صاحبھا الصلوٰۃ والسلام کی خاک رو بی اور ان امکنہ مقدسہ میں جبہ سائی نے اس سلسلے میں آپ کی مبارک تالیف فیوض الحر مین اور المشاہد المبارکہ شایان مطالعہ ہیں ‘‘(۶)
مسلک وہابیت سے وابستہ جو لوگ اپنے کو فکر ولی اللٰہی کا سچا تر جمان مانتے ہیں ان کے عقائد ونظریات کی ایک جھلک پیش کی جارہی ہے اس سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کس طرح ان لو گوں نے انہیں اپنا رہنما تسلیم کر کے ان کے عقائد پرضرب کاری لگائی ہے ۔
وہابیت کی رہنما کتاب تقویۃ الایمان میں ہے ’’جو کہے اللہ ورسول نے غنی کر دیاوہ شرک ہے‘‘
حالانکہ قرآن عظیم فر ماتا ہے اغنٰھم اللہ ورسولہ من فضلہ(۷)
ٖ ( اللہ ورسول نے انہیں دولت مند کردیا اپنے فضل سے)
تقویۃ الایمان میں لکھاہے کہ احمد بخش اور محمد بخش نام رکھنا شرک ہے ۔
حالانکہ قرآن حکیم فر ماتا ہے کہ جبرئیل علیہ السلام جب حضرت سیدتنا مریم کے پا س آئے تو فر مایا انما انا رسول ربک لاھب لک غلاما ذکیا (۸) (میں رب کا رسول ہوں اس لئے کہ میںستھرا بیٹا دوں )
اس طرح کی عبارتوں سے پوری کتاب بھری ہے تقویۃ الایمان کی عبارتوں کا مطالعہ کر نے کے بعد امام اہل سنت مولانا احمد رضا فرماتے ہیں ۔
’’ وہابیہ کے شرک سے نہ ائمہ محفوظ نہ صحابہ نہ انبیا ء نہ جبرئیل امین نہ خود رب العالمین (۹)
وہابیوں کے سر غنہ شاہ اسماعیل دہلوی کی دوسری تصنیف صراط مستقیم ہے۔ اس کتاب میں یہ عبارت بھی پائی جاتی ہے۔
’’از وسوسہ زنا خیال مجامعت زوجہ خود بہتر است وصرف ہمت بسوئے شیخ وامثال آں از معظمین گو جناب رسالت مآب باشد بچندیں مرتبہ بد تر از استغراق در صورت گاو وخر خود است ‘‘(۱۰)
(نماز میں زناکے وسوسہ سے بیوی کے ساتھ مجامعت کے خیال کو بہتر اور حضور علیہ السلام کی طرف توجہ لگا نے کو گدھے اور بیل کے خیال میں مستغرق ہو جانے کے مقابلے میں بد تر قرار دیا گیا ہے )
فکر ولی اللٰہی کے نام سے اکابر علمائے دیوبند نے جو گلفشانیاں کی ہیں اس پر ایک طائرانہ نظر ڈالتے چلیں مولانامحمد قاسم نانوتوی اپنی تصنیف تحذیر الناس میں لکھتے ہیں ۔
عوام کے خیال میں تو رسول اللہ صلعم کا خاتم ہو نا بایں معنیٰ ہے کہ آپ کا زمانہ انبیائے سابق کے زمانہ کے بعد اور آپ سب میں آخری نبی ہیں مگر اہل فہم پر روشن ہو گا کہ تقدم یا تا خر زمانہ میں بالذات کچھ فضیلت نہیں‘‘(۱۱)
مولانا اشرف علی تھانوی لکھتے ہیں ۔
آپ (ﷺ) کی ذات مقدسہ پر علم غیب کا حکم کیاجانا اگر بقول زید صحیح ہو تو دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس غیب سے مراد بعض غیب ہے یا کل غیب اگر بعض علوم غیبیہ مراد ہیں تو اس میں حضور ہی کی کیا تخصیص ہے ایسا غیب تو زید عمرو بلکہ ہر صبی مجنوں بلکہ جمیع حیوانات وبہائم کے لئے بھی حاصل ہے ‘‘۔(۱۲)
مولانا خلیل احمد انبیٹھوی لکھتے ہیں ۔
الحاصل غور کرنا چا ہئے کہ شیطان وملک الموت کا حال علم محیط زمین کا فخر عالم کو خلاف نصوص قطعیہ کے بلا دلیل محض قیاس فاسدہ سے ثابت کرنا شرک نہیں تو کون سا ایمان کا حصہ ہے ؟۔شیطان وملک الموت کی یہ وسعت نص سے ثابت ہو ئی فخر عالم کی و سعت علم کی کون سی نص قطعی ہے۔(۱۳)
یہ واضح رہے کی اس عبارت کو مصنف کے استاذ مولوی رشید احمد گنگو ہی کی تائید بھی حاصل ہے کیوں کہ یہ کتاب انہی کے حکم سے تصنیف ہو ئی ہے اور انہوں لفظاًلفطاً پڑھ کر اس کی تصدیق فر مائی ہے۔
کیافکر ولی اللٰہی یہی ہے جس کا ذکرسطور بالا میںہوا یا اس سے ہٹ کرکو ئی اور چیز ہے ؟۔اگر یہ شاہ ولی اللہ کی فکر نہیں تو وہابیت اور دیوبندیت کے اکابر واصاغر علماانہیں اپنے رہنما کے طور پرکیوں پیش کر تے ہیں ؟۔ جب کہ واقعہ یہ ہے حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی کے افکار ونظریات ماضی میں حضرت سیدنا شیخ عبد الحق محدث دہلوی سے ہم آہنگ تھے بعد کے ادوار میں ان نظریات کی تر جمانی کافی حد تک امام اہل سنت مولانا احمد رضا خاں قادری نے کی جس کی تشہیر دور حاضر میں بریلویت اور بالفاظ دیگرمسلک اعلیٰ حضرت سے ہوئی۔امام اہل سنت نے اپنی تمام تر تصانیف میں انہیں افکار ونظریات کی تر جمانی کی جن پر شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کا عمل تھا اور شاہ ولی محدث دہلوی کی وہ تمام تصانیف جو غیر محرف ہیں ان سے بھی تقریباً وہی سب کچھ ثابت ہے جس کا ذکر امام اہل سنت نے اپنی تصانیف میں کیا ہے اگر ان کا تفصیل سے جائزہ لیاجائے تو یہ مقالہ ضخیم کتاب کا متقاضی ہو گا ۔یہاں کنز الایمان جو امام اہل سنت فاضل بریلوی کا تر جمہ قرآن ہے بغیر کسی توضیح وتشریح کے اس کے تر جمہ کے ذریعہ حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی کے افکار ونظریات کی ہم آہنگی دکھانے کی کوشش کی گئی ہے کیوں کہ قرآن حکیم ایک ایسی کتاب ہے جس سے ہی تمام مسالک کے لوگ اپنے افکار ونظریات کو جوڑنے کی کوشش کر تے ہیں بعض مخلص نہ ہو نے کے باعث گمراہ ہو جاتے ہیں اور بعض کو ہدایت مل جاتی ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’ یضل بہٖ کثیراً ویھدی بہٖ کثیرا‘‘ً اس لئے ضروری ہوا کہ بتا یا جائے کہ کنز الایمان کے تر جمہ میں کس قدر فکر ولی اللٰہی سے ہم آہنگی پائی جاتی ہے اور کتاب اللہ سے اپنے افکار ونظریات کو مربوط کرنا اس لئے بھی ضروری ہے کہ شاہ صاحب کی وصیت تھی کہ اعتقاد وعمل میں کتاب وسنت کو ہی رہنما تسلیم کیا جائے جیسا کہ مولوی ابو الحسن علی ندوی تاریخ دعوت وعزیمت میں رقم طراز ہیں۔
’’اس فقیر کی پہلی وصیت یہ ہے کہ اعتقاد وعمل میں کتاب وسنت کو مضبوط ہا تھوں سے تھاما جائے اور ہمیشہ ان پر عمل کیا جائے عقاید میں متقدمین اہل سنت کے مذہب کو اختیار کیا جائے اور ( صفات وآیات متشابہات ) کے سلسلے میں سلف نے جہاں تفتیش اور تفصیل سے کام نہیں لیا ہے ان سے اعراض کیا جائے اور معقولیان کے کام کی تشکیکات کی طرف التفات نہ کیا جائے ‘‘ (۱۴)
اس وضاحت کے بعد آئے دیکھیں کہ اہل سنت وجماعت سے حضرت شاہ ولی محدث دہلوی کے افکار ونظریات کس درجہ ہم آہنگ تھے۔؟
شفاعت
شفاعت کے تعلق سے فکر ولی اللٰہی کا اپنے آپ کواصل تر جمان سمجھنے والے وہابی علما کا عقیدہ ہے کہ کوئی نبی وولی کسی کی شفاعت نہیں کر سکتا اور جو اس طرح کا اعتقاد رکھے وہ ابو جہل ہی کی طرح مشرک ہے شاہ اسماعیل دہلوی فر ماتے ہیں۔
جو کسی نبی وولی سے یہ معاملہ کرے اور اس کو اپنا وکیل وسفارشی جانے تو وہ ابو جہل کے برابر مشرک ہے اس پر شرک ثابت ہو جاتا ہے۔(۱۵)
علمائے اہل سنت کے نزدیک شفاعت حق اور ثابت ہے اور اس بات پر صد فی صد ایمان ہے کہ روز قیامت خدا کے حکم سے اللہ کے نبی ﷺ ہم جیسے گنہ گاروں کی شفاعت فر مائیں گے اس تعلق سے قرآن حکیم کی بیشتر آیات ہیں جن سے اس مسئلہ کی تائید ہو تی ہے ۔
۱۔ یو مئذ لا تنفع الشفاعۃ الا من اذن لہ الرحمٰن ورضی لہ قولاً(۱۶)
( اس دن کسی کی شفاعت کام نہ دے گی مگر اس کی جسے رحمان نے اذن دے دیا ہے اور اس کی بات پسند فر مائی )
۲۔ واستغفر لذنبک وللمومنین والمومنات (۱۷)
( اور اے محبوب اپنے خاصوں اور مسلمان مردوں کے گناہوں کی معافی مانگو )
۳۔ مامن شفیع الا من بعد اذنہ ٖ (۱۸)
( کوئی سفارشی نہیں مگر اس کی اجازت کے بعد )
۴۔ لاتنفع الشفاعۃ عندہ الا لمن اذن لہ ( ۱۹)
( اور اس کے پاس شفاعت کام نہیں دیتی مگر جس کے لئے وہ اذن فر مائے )
کنزالایمان کے یہ وہ مومنانہ تراجم ہیں جس پر مومنانہ عقیدہ ونظریہ کی مکمل چھاپ ہے اور ساتھ ہی منشائے الٰہی کے عین مطابق ہے اس طرح اور بھی آیات ہیں جن سے اس موقف کی تا ئید ہو تی ہے ۔ کنزالایما ن میںواضح لفظوں میںفر مایاگیا ہے کہ ہمارے نبی ﷺ شفیع المذنبین ہیں احادیث کریمہ اور اقوال صحابہ وائمہ میں ا س کی متعدد مثالیں ملتی ہیں تمام اکابر علمائے اہل سنت کا بھی یہی نظریہ تھا اور ہے اب دیکھئے اس تعلق سے شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کیا فر ماتے ہیں ۔
ملفوظات کے مرتب شیخ محمد عاشق پھلتی لکھتے ہیں ۔
آپ نے تحریر فر مایا کہ میں نے آنحضرت ﷺکا علمائے حدیث کے حق میں شفاعت کا اور موت کے وقت توسل اور علم حدیث سے توسل کا مشاہدہ کیا اور اس کی حفاظت عروۃ الوثقیٰ اور حبل ممدود ہے جو منقطع ہو تی ہی نہیں ہے پس ہر مومن پر لازم ہے کہ وہ یا محدث ہو یا ان کا طفیلی ہو جائے ‘‘(۲۰)
توسل
موجودہ دور کے وہ علماء جو فکر ولی اللٰہی پر عمل پیرا ہو نے کا ڈنڈھورا پیٹتے ہیں ان کا عقیدہ انبیا ء ومرسلین اور اولیا ء وبزر گان دین سے توسل کاہے توسل یہ ہے کہ اگر ان کو کوئی وسیلہ اور سفارشی سمجھے تو وہ ابو جہل کے برابر مشرک ہے تفصیل کے لئے تقویۃ الایمان کا مطالعہ کرنا چا ہئے اس کتاب میںکئی ایک ایسی عبارتیں ہیں جن سے درج بالا وہابی موقف کی تائید ہو تی ہے ۔ شاہ اسماعیل دہلوی لکھتے ہیں ۔
’’ سو جو کوئی کسی سے یہ معاملہ کرے گو کہ اس کو اللہ کا بندہ ومخلوق ہی سمجھے سو ابوجہل اوروہ شرک میںبرابر ہے ( ۲۱)
اس تعلق سے علمائے اہل سنت کا موقف بالکل واضح ہے ان کا ماننا ہے کہ حضرات انبیائے کرام اور اولیائے عظام بارگاہ رب العزت میں وسیلہ ہیں ان کے توسل سے گنہ گار بندوں کی دعائیں قبول ہو تی ہیں ۔وہ اپنے موقف کی تائید میں درج ذیل آیات قرآنی سے استشہاد کرتے ہیں ۔
۱۔ یا ایھا الذین آمنوا اتقواللہ وابتغوا الیہ الوسیلۃ(۲۲)
( اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور اس کی طرف وسیلہ ڈھونڈو)
۲۔ ولو انھم اذ ظلموا انفسھم جاؤک فاستغفروا اللہ واستغفر لھم الرسول لوجدو االلہ توابارحیما( ۲۳)
( اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں تو اے محبوب تمہارے حضور حاضر ہوں اور پھر اللہ سے معافی چا ہیں اور رسول ان کی شفاعت فر مائے تو ضرور اللہ کو بہت تو بہ قبول کر نے والا مہربان پا ئیں )
کنز الایمان کے اس تر جمہ سے بالکل واضح طور پر یہ معلوم ہو تا ہے کہ بار گاہ الٰہی میں رسول مقبول ﷺ کا وسیلہ اور آپ کی شفاعت بر آری کا ذریعہ ہے۔ اس آیت کی مزید وضاحت کرتے ہو ئے خزائن العرفان کے مصنف صدر الافاضل مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی فر ماتے ہیں۔
’’ سید عالم ﷺ کی وفات شریف کے بعد ایک اعرابی روضہ اقدس پر حاضر ہوا اور روضہ شریف کی خاک پاک اپنے سر پر ڈالی اور عرض کر نے لگا یا رسول اللہ جو آپ نے فر مایا ہم نے سنا اور جو آپ پر نازل ہوا اس میں یہ آیت بھی ہے ولو انھم اذ ظلموا انفسھم الخ میںنے بے شک اپنی جان پر ظلم کیا اور میں آپ کے حضور میں اللہ سے اپنے گناہ کی بخشش چاہنے حاضر ہوا تو میرے رب سے میرے گناہ کی بخشش کرا یئے اس پر قبر شریف سے ندا آئی کہ تیری بخشش کی گئی ‘‘
یہ حدیث بیان کر نے کے بعدصاحب خزائن العرفان چند مسائل کا استنباط کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔
۱ اللہ تعالی کی بارگاہ میں عرض حاجت کے لئے اس کے مقبولوں کو وسیلہ بنانا ذریعہ کامیابی ہے ۔
۲ قبر پر حاجت کے لئے جانا بھی جاؤک میں داخل ہے اور یہ خیر القرون کا معمول ہے ۔
۳ بعد وفات مقبولان حق کو یا کے ساتھ ندا کر نا جائز ہے ۔
۴ مقبولان حق مدد فر ماتے ہیں اور ان کی دعا سے حاجت روائی ہو تی ہے ۔ (۲۴)
مولانا احمد رضا چونکہ اپنے دور میںاہل سنت وجماعت کے مقتدا تھے اس لئے انہوں نے کنز الایمان کے تر جمہ میں واضح لفظوں میں وہی تر جمہ کیا ہے جو منشائے الٰہی کے عین مطابق تھا۔ انبیاء ومرسلین، اولیاء وبزر گان دین جتنے بھی بارگاہ رب العزت میں مقربین ہیں وہ گنہ گار بندوں کے لئے گناہوں کی معافی کے لئے وسیلہ ہیں۔
اب آئے دیکھیں کہ اس سلسلے میں حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کاموقف کیا تھا ۔
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی وابتغوا الیہ الوسیلۃ میں وسیلہ سے مراد مشائخ اور بزر گان دین سے بیعت وارادت مراد لیتے تھے اس آیت کی وہ تشریح جو ایک موقع سے امیر عصمت اللہ سہار نپوری نے کی اسے معتبر نہیں مانتے تھے وہ فر ماتے ہیں۔
یا ایھا الذین آمنوا اتقوااللہ وابتغوا الیہ الوسیلۃ وجاھدو ا فی سبیلہٖ لعلکم تفلحون اس آیت میں ابتغاء وسیلہ سے مراد کیا ہے؟۔ ا میر عصمت اللہ سہارنپوری نے جو کچھ بعض مفسرین کے حوالے سے اعمال صالحہ وغیرہ کا ذکر کیا ہے شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے فر مایا یہ معنیٰ مراد نہیں ہو سکتے۔ ایمان تو اس لئے مراد نہیں ہو سکتا کیوں کہ خطاب مومنین سے ہے ( یعنی ایمان والوں سے یہ کہنا کہ ایمان لاؤ ایک مہمل سی بات ہو گی ) اور اعمال صالحہ تقویٰ میں داخل ہیں اور تقویٰ سے مراد امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر عمل کر نا ہے ( یہ بھی وابتغوا الیہ الوسیلۃ میں دا خل نہیں) اور یہ بھی مراد نہیں ہو سکتا کیوں کہ قاعدہ ٔ عطف مغائرت چا ہتا ہے یعنی اتقوا اللہ اور وابتغوا الیہ الوسیلۃ کے معنی میں مغائرت ہے کیوں کہ معطوف اور معطوف الیہ ہم معنیٰ نہیں ہوتے اور ذکر میں تر تیب اس کی مقتضی ہے کہ وہ ایک ایسی چیز ہے جو تقویٰ کے بعد پیدا ہوتی ہے اور وہ چیز ارادت اور مرشد سے بیعت ہے اس کے بعد مجاہدہ وریاضت ہے تا کہ فلاح حاصل ہو جس سے مطلب ذات حق کا حصول ہے ( ۲۵)
عرس :
اکابر علمائے اہل سنت وجماعت کا یہ دستور رہا ہے کہ وہ اپنے مشائخ کرام وبزر گان دین کا عر س بڑے اہتمام سے منایا کرتے تھے جس میں قرآن خوانی ، محفل حمد ونعت ومنقبت ،مجالس اصلاح المسلمین ،اطعام غر با ومساکین کے علاوہ وعظ وتبلیغ کی مجلسیں ہوتی تھیں اور آج بھی علمائے اہل سنت کے نزدیک یہ معمول ہے جو لوگ عرس کو ناجائز وحرام لکھتے اور کہتے ہیں ان کا بھی اس پر عمل ہے فرق صرف اتنا ہے کہ علمائے اہل سنت کے معمولات سے ہٹ کر وہ ان تاریخوں میںسیمینار وکانفرنس اور مذاکروں کا اہتمام کر کے ان کی یاد تازہ کر تے ہیں ۔جب کہ بانی مسلک دیوبندمولوی رشید احمد گنگو ہی فر ماتے ہیں ۔
’’عر س کا طریقہ سنت کے خلاف ہے لہٰذا بدعت ہے (۲۶)
کسی عرس ومولود میں شریک ہو نا درست نہیں اور کوئی عرس ومولود درست نہیں ( ۲۷)
یہ ان حضرات کا عقیدہ ہے جو اپنے کو فکر ولی اللٰہی کا تر جمان سمجھتے ہیں اب آئے اہل سنت کا نظریہ ملاحظہ فر مایئے۔ ان کا ماننا ہے کہ اولیائے کرام وبزر گان دین کا عرس منانا جائز ومباح ہے اور احیاء اموات کے لئے فائدہ مند ہے امام اہل سنت مولانا احمد رضا کا اس پر عمل تھا وہ اپنے مشائخ کا عرس بڑے اہتمام سے منایا کرتے تھے ۔ عر س کی اصل قرآن وحدیث سے ثابت ہے ۔ارشاد با ری تعالیٰ ہے ۔
والسلام علیٰ یوم ولدت ویوم اموت ویوم ابعث حیاً (۲۸)
( وہی سلامتی مجھ پر جس دن میں پید اہوا اور جس دن میںمروں گا اورجس دن زندہ اٹھایا جاؤں گا)
والسلام علیہ یوم ولد ویوم یموت ویوم یبعث حیاً (۲۹)
( اور سلامتی ہے اس پر جس دن پیدا ہوا اور جس دن مرے گا اور جس دن زندہ اٹھایا جائے گا )
یہ دونوں آیات کریمہ پیغمبران اسلام کے حق میں نازل ہو ئی ہیں ان مقربین بارگاہ الٰہی کے یوم ولادت ووفات اور زندہ اٹھائے جانے والے دن پر سلامتی کا وعدہ کیا گیا ہے ۔ولادت وموت کے دنوں میں چونکہ خدا کی سلامتی نازل ہو تی ہے اس لئے یاد گار کے طور پر بنام عرس اسے منایا جاتا ہے اور اسی نقطہ نظر کے تحت حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نہ صرف نیاز مندانہ انداز میں اعراس میں شرکت فر ماتے تھے بلکہ اپنے چچا شیخ ابو الرضا کا عرس بھی بڑے اہتمام سے کیا کر تے تھے ، آپ کے ملفوظات میں ہے ۔
’’ ایک بار شیخ ابو الرضا محمد قدس سرہ ( آپ کے چچا ) کے عر س کے موقع پر رات کے وقت جب کہ ان کے مقبرہ میں ہنگا مہ وسرود جاری تھا اور حاضرین پر ( سماع وسرود سے) ذوق ووجد طاری تھا میں بعد العشاء اپنی مسجد میں بیٹھا ہوا تھا کہ نور کا ایک ٹکرا سامنے لایا گیا اور یہ کہا گیا جو کچھ اس محفل میں ذوق وشوق اور روح مبارک کی توجہ کی بر کات ہیں سب نے مرکب ہوکر یہ صورت اختیار کی ہے جو عطائے الٰہی ہے اور اسی وقت تمام عالم میں نفس ناطقہ کا سر یان ظاہر ہوا اور یہ واضح ہوا کہ وہ نور اسی منبع کا تابع ہے اگرچہ اسی جگہ سے بھیجا گیا ہے ( ۳۰)
اس تعلق سے ایک دوسرا واقعہ بھی آپ کی ملفو طات کے مرتب لکھتے ہیں ۔
’’ حضرت قبلہ ایک بار مخدوم جمال الدین قدس سرہ کے عرس کے موقع پر ان کی قبر شریف کی زیارت کو موضع بھلاوہ تشریف لے گئے وہاں لوگوں کا ایک انبوہ عظیم تھا اور ایک کثیر ہجوم ان کی قبر کو بوسہ دے رہا تھا حضرت قبلہ وہاں تھوڑی دیر کھڑے رہے اور اس کے بعد مقبرہ کے اندر سے باہر آکر بیٹھ گئے اور فر مایا کہ آدمی جب تک قید حیات میں رہتا ہے اور اس میں ہر چند یا د حق کرتا ہے اور ترقیات کرتا ہے لیکن بہ سبب تعلق جسمانی اس کو بشریت ناسوتیت سے کلی طور پر نجات میسر نہیں ہے اور جب اس عالم سے انتقال کر گیا تو اس وقت بشریت سے مکمل طور پر نجات حاصل ہو کر صفت لا ہوتیت غالب ہو جاتی ہے لہٰذا وہ مسجود خلائق ہو جاتا ہے ۔( ۳۱)
ایک تیسرا واقعہ بھی لگے ہاتھوں پڑھتے چلئے ملفو ظات کے مرتب محمد عاشق پھلتی لکھتے ہیں۔
’’ایک بار عرس کی مجلس تھی اور ہم شیخ ابو الفتح اور شیخ ابو الفضل کے روضے کی دیوار کے نیچے بیٹھے تھے ناگاہ میںنے دیکھا کہ ایک نور مثل برق دونوں قبروں سے نکلا اور بہ شدت تمام مجھ میں سرایت کر گیا ایسا کہ میں سخت مضطرب ہوا اور قریب تھا کہ اچھل کر رقص کرنے لگوں اور نعرے ماروںکہ یکایک ( اسی وقت ) حضرت قبلہ گاہی مرشد بر حق کی صورت نمو دار ہو ئی اور مجھ کو تسکین بخشی اگر چہ اس وقت بظاہر نہ میری کوئی چیخ نکلی اور نہ اضطراب ظاہر ہوا لیکن میں نے دیکھا کہ میری حقیقت رقص کر رہی ہے اور اس سے ایک اضطراب عظیم بر پا ہے اور یہ حال تقریباً ایک ساعت تک مجھ پر رہا ‘‘(۳۲)
ان تینوں واقعات کی رو شنی میں بصد وثوق یہ کہا جاسکتا ہے کہ فکر ولی اللٰہی وہ نہیں جس پر ارباب مسلک دیوبند کا عمل ہے بلکہ فکر ولی اللٰہی کے اصل ترجمان اس دور میں علمائے اہل سنت وجماعت ہیں جنہیں اس دور میں بریلویت سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔
میلاد مصطفیٰ ﷺ
میلاد شریف کے تعلق سے مسلک دیوبند کے بانی مولوی رشید احمد گنگو ہی فر ماتے ہیں ۔
’’عقد مولود اگر چہ اس میں کوئی امر غیر مشروع نہ ہو مگر اہتمام وتداعی اس میں بھی موجود ہے لہٰذ اس زمانہ میںدرست نہیں (۳۳)
علمائے اہل سنت کے نزدیک یہ فعل نہ فقط جا ئز ومباح ہے بلکہ مستحب ومستحسن ، موجب اجر وثواب اور باعث خیر وبر کت ہے۔ اسلاف کا اس پر عمل رہا ہے اس موضوع پر علمائے اہل سنت کے نوک قلم سے متعد د تحریریں منظر عام پر آچکی ہیں ہمیں ان کا مطالعہ کر نا چا ہیے ارباب مسلک حق نے متعدد آیات کریمہ سے اس پر دلیلیں قائم کی ہیں۔ کنز الایمان میںاس کا ذکر اس طرح ملتا ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔
۱۔ لقد جاء کم رسول من انفسکم عزیز علیہ ماعنتم حریص علیکم بالمومنین روف رحیم (۳۴)
( بے شک تمھارے پاس تشریف لا ئے تم میں سے وہ رسول جن پر تمھارا مشقت میں پڑنا گراں ہے ، تمھاری بھلائی کے نہایت چا ہنے والے مسلمانوں پر کمال مہر بان )
۲۔ لقد من اللہ علی المومنین اذ بعث فیھم رسولا (۳۵)
(بے شک اللہ کا بڑا احسان ہوا مسلمانوں پر کہ ان میں انہیں میں سے ایک رسول بھیجا )
۳۔ ھو الذی بعث فی الامیین رسولاً منھم یتلو علیھم آیاتہ(۳۶)
( وہی ہے جس نے ان پڑھوں میں انہیں سے ایک رسول بھیجا کہ ان پر اس کی آیتیں پڑھتے ہیں )
اس طرح کی متعدد آیات ہیں جن میں سر کار دوعالم ﷺ کے فضائل ومناقب کے ساتھ آپ کی بعثت کا ذکر ہے علمائے حق میلاد کی محافل میںعقیدت واحترام کے ساتھ سر کار کی بعثت ، عرب کے حالات اور آپ کی آمد سے جو عرب سماج میں تبدیلیاں ہوئیں اس کا ذکر ملتا ہے قرآنی آیات اور کتب سماوی میں انہیں کا ذکر ہے اور یہ سب کچھ امر مستحسن ہے ۔امام اہل سنت مولانا احمد رضا خاں قادری کا نظریہ بھی کچھ اسی طرح کا تھا جس کا اظہار کنز الایمان کے حوالہ سے سطور با لا میں ہوا ۔ حضرت شاہ ولی اللہ محد ث دہلوی بھی سر کار دوعالم ﷺ کی ولادت کے تعلق سے اسی طرح کا عقیدہ رکھتے تھے وہ اس قسم کے محافل میں نہ صرف شریک ہو تے تھے بلکہ آ پ کی بعض تصانیف کے مطالعہ سے معلوم ہو تا ہے کہ آپ خود ایسی محافل کا انعقاد بھی فر مایا کرتے تھے۔
’’ مکہ معظمہ میں روز ولادت سر ور کائنات ( محفل میلاد شریف ) مولد شریف میں لوگوں کا ایک جم غفیر تھا اور وہ آنحضرت پر صلوٰۃ وسلام اور آپ کے معجزات بیان کرنے میں مشغول تھے ناگاہ میں نے اس بقعہ کریمہ سے بجلیاں چمکتی ہو ئی دیکھیں مجھے ان کے ادراک کی فکر ہوئی کہ کیاوہ نگاہ ظاہر سے ہیں یا نگاہ باطن سے، پھر جب میں نے غور کیاتو دیکھا کہ ان ملائکہ کے انوار ہیںجو اس متبرک مقام پر مامور ہیں‘‘ (۳۷)
ندا ئے یا رسول اللہ
ندائے غیر اللہ صحیح وجائز ہے اور اسی پر اکابر علمائے اہل سنت کا عمل ہے۔ لیکن بانی مسلک دیوبند مولوی رشید احمد گنگو ہی اسے ناجائز وکفر سمجھتے ہیں وہ ایک سائل کے سوال کا جواب دیتے ہو ئے فر ماتے ہیں ۔
’’یا رسول اللہ کہنا بھی ناجائز ہو گا اور اگر یہ عقیدہ کر کے کہے کہ وہ دور سے سنتے ہیں سبب علم غیب کے تو خود کفر ہے ۔ ( ۳۸)
ہندوستان میں مسلک وہابیت کے علم بردار مولوی اسماعیل دہلوی کا بھی یہی خیال ہے وہ اپنی کتاب تقویۃ الایمان میںفر ماتے ہیں۔
’’کس انبیاء واولیا ء کی، پیر وشہید کی ،بھوت وپری کی یہ شان نہیںجو کوئی کسی کو ایسا تصرف ثابت کرے اور اس سے مرادیں مانگے اور اس توقع پر نذر ونیاز کرے اور اس کی منتیں مانے اور اس کو مصیبت کے وقت پکارے سو وہ مشرک ہو جاتا ہے ( ۳۹)
علمائے اہل سنت کے نزدیک اللہ تبارک وتعالیٰ نے جاندار چیزوں کو ہی صرف نہیں بلکہ بے جان چیزوں کو بھی حرف ندا سے خطاب کیاہے جس کی صراحت کنز الایمان میں مولانا احمد رضا نے فر مادی ہے۔
یا آدم اسکن انت وزوجک الجنۃ (۴۰)
(اے آدم تو اور تیری بی بی اس جنت میں رہو )
یا ایھا النبی انا ارسلناک شاھداً(۴۱)
(اے غیب کی خبریں بتانے والے (نبی ) بے شک ہم نے بھیجا تمہیں حاضر ناظر )
یا ایھا الذین آمنو استعینوا بالصبر والصلوٰۃ(۴۲)
(اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد چاہو )
یا ایھا الناس اتقو ربکم ان زلزلۃ الساعۃ شئی عظیم (۴۳)
( اے لوگو اپنے رب سے ڈرو بے شک قیامت کا زلزلہ بڑی سخت چیز ہے )
یا نار کونی بردا وسلاماعلیٰ ابراہیم (۴۴)
(اے آگ ہو جا ٹھنڈی اور سلامتی ابراہیم پر)
یا ارض ابلعی مائک ویاسماء اقلعی وغیض الماء (۴۵)
( اے زمین اپنا پانی نگل لے اور اے آسمان تھم جا اور پانی خشک کردیا گیا )
یا جبال اوبی معہ والطیر( ۴۶)
(اے پہاڑو اس کے ساتھ اللہ کی طرف رجوع کرو اور اے پرندو)
ان آیات کریمہ سے واضح ہو تا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے صرف انبیاء ومرسلین ہی کو صرف نہیں حرف ندا سے خطاب کیا ہے بلکہ عامۃ الناس اور عام مخلوقات کوبھی جیسے زمین آسمان اور پہاڑوں کو بھی مخاطب کیا ہے اسی رو شنی میںکنز لایمان میں اس کی وضاحت فر مائی گئی ہے۔
اب اعتراض یہ پیدا ہو تا ہے کہ جب تک رسول بقید حیات تھے انہیں حرف ندا سے خطاب کر نا جائز تھا لیکن اب جب کہ وہ نگاہوں کے سامنے نہیں پھر انہیں کیوں کر حرف ندا سے خطاب کیا جائے یہ اعتراض ان کی طرف سے ہے جو نبی کو مردہ مانتے ہیں۔ اگر اسی نظریہ سے انہیں خطاب کرنا ناجائزسمجھا جا رہا ہے تو ان پریہ واضح ہو جانا چا ہئے کہ انبیا ء مرتے نہیں وہ اپنی قبروں میں زندہ ہیںنمازیں ادا کرتے ہیں جیسا کہ حضرت انس بن مالک سے ایک روایت ہے وہ فر ماتے ہیں الانبیا ء احیاء فی قبورھم یصلون (انبیا اپنی قبروں میں زندہ ہیں نمازیں پڑھتے ہیں )اس کے رواۃ میںجتنے لوگ ہیں سب ثقہ ہیں ائمہ اسلام نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے علامہ مناوی ، حافظ ابن حجر ، امام ہیثمی ، علامہ علی بن احمد عزیزی ، علامہ شوکانی ، علامہ نور السہمودی ، امام سخاوی، امام جلال الدین سیوطی ، اور علامہ علی القاری المکی سب نے ہی اس حدیث کو صحیح لکھا ہے اور موخر الذکر نے اس روایت کی ان الفاظ میں اس کی تائید کی ہے ۔
صح خبر الانبیاء احیاء فی قبورھم ( ۴۷)
(الانبیاء احیاء فی قبورھم کی روایت صحیح ہے )
اس روایت کی ایک دوسری حدیث سے بھی تائید ہو تی ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ انبیاء اپنی قبروں میں زندہ ہیں ان کا حال بالکل ملائکہ کی طرح ہے جس طرح وہ موجود ہیں مگر ہم انہیں نہیں دیکھتے ٹھیک اسی طرح انبیاء بھی زندہ ہیں موجود ہیںمگر ہم انہیں دیکھتے لہٰذا حدیث کا یہ جملہ ’’ ان الارض لا تاکل اجساد الانبیاء بالکل درست ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ شب معراج بیت المقدس میں تمام انبیاء اپنی حیات جسمانی کے ساتھ جمع ہو ئے اور آسمانوں میں بعض انبیاء سے ملاقاتیں ہوئیں اور گفتگو بھی ہوئی، اگر موت عدم محض کا نام ہو تا تو ان کے اجتماع کا کیا معنیٰ ؟ اسی وجہ سے یہ حدیث بیان کی جاتی ہے کہ اللہ کے نبی مرتے نہیں بلکہ ایک گھر سے دوسرے گھر کی طرف منتقل ہو جاتے ہیں ارشاد نبوی ہے۔
’’ انبیاء اللہ لایموتون ولکن ینقلون من دار الیٰ دار (۴۸)
(اللہ کے نبی مرتے نہیں بلکہ ایک گھر سے دوسرے گھر کی طرف منتقل ہو جاتے ہیں )
حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی کا بھی یہی نظریہ تھا وہ اطیب النغم فی مدح سید العرب والعجم میں سرکاردوعالم ﷺ کی تعریف کرتے ہو ئے لکھتے ہیں ۔
وصلی علیک اللہ یا خیرخلقہٖ
ویاخیر مامول ویا خیر واھب
ویاخیر من یرجیٰ لکشف رزیۃ
ومن جودہٖ قد فاق جود السحائب
وانت مجیر ی من ھجوم ملمۃ
اذا انشبت فی القلوب شر المخاطب (۴۹)
۱۔اے مخلوق خدا میں سب سے بہتر تم پر درود وسلام ہو ۔
۲۔ اور اے مصیبتوں کے دور کرنے والے اور اے بارش کی طرح سخاوت کر نے والے۔
۳۔ اورمصائب میں اور اس وقت جب دل میںکوئی چنگل والا چنگل مارے تو ہی مجھے پناہ دینے والا ہے ۔
انبیاء ومرسلین کے علاوہ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے بانی سلسلہ قادریہ حضرت سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی علیہ الرحمۃ والرضوان کو بھی حرف ندا سے خطاب کیا ہے ۔ وہ اپنی کتاب الانتباہ فی سلاسل اولیاء اللہ میں ایک وظیفہ کا طریقہ بتا تے ہو ئے لکھتے ہیں۔
اول دو رکعت نفل بعدا زاں یکصد ویازدہ باردرود وبعد ازاں یکصد ویازدہ بار کلمہ تمجید ویک صد ویازدہ بار شیئاً للہ یا شیخ عبد القادرجیلانی گوید (۵۰)
( پہلے دورکعت نماز پڑھے پھر اس کے بعد ایک سو گیارہ مرتبہ درود شریف پڑھے پھر اس کے بعد ایک سو گیارہ بار شیئا للہ یا شیخ عبد القادر جیلانی کا وظیفہ پڑھے )
یہی نظریہ بانی مسلک دیوبند مولوی رشید احمد گنگوہی کے پیر ومرشد سید الطائفہ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا بھی تھا وہ اس تعلق سے فر ماتے ہیں۔
’’ جو ندا نص میں وارد ہے مثلاً یا عباد اللہ اعینونی وہ بالاتفاق جائز ہے اور یہ تفصیل حق عوام میںہے اور جو اہل خصوصیت ہیں ان کا حال جدا ہے اور حکم بھی جدا کہ ان کے حق میں یہ فعل عبادت ہو جاتا ہے۔جو خواص میں ہو گا خود سمجھ لے گا بیان کی حاجت نہیں۔ یہاں سے معلوم ہو گیا ہے حکم وظیفہ یا شیخ عبد القادر شیئاً للہ کا لیکن اگر شیخ متصرف حقیقی سمجھے تو منجر الی الشرک ہے ہاں اگر وسیلہ وذریعہ جانے یا ان الفاظ کو بابرکت سمجھ کر خالی الذہن ہو کر پڑھے کچھ حرج نہیںیہی تحقیق ہے اس مسئلہ میں‘‘(۵۱)
تصرف
اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک بندوں کو مجبور محض نہیں بنا کر پیدا کیا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اشرف المخلوقات بنا کر بھیجا ہے کائنات کی بیشتر چیزوں کو اپنے بر گزیدہ بندوں کے تابع کیا ہے مگر ہمارے بعض نام نہاد مسلمان اس کی تردید کرتے ہیں اورکہتے ہیں کہ تصرف کا حق صرف اللہ تعالیٰ کو ہے کسی نبی اور کسی ولی کو تصرف کی طاقت حاصل نہیں اور اگر کوئی ایسا عقیدہ رکھتا ہے تو وہ مشرک ہو جاتاہے ۔مسلک وہابیت ودیوبندیت سے متعلق کتابوں میں اس قسم کی کئی ایک عبارتیں ملتی ہیں ہندوستان میں مسلک وہابیت کے علم بردارشاہ اسماعیل دہلوی اپنی مشہور زمانہ تصنیف تقویۃ الایمان میں لکھتے ہیں۔
اللہ صاحب نے کسی کو عالم میں تصرف کر نے کی قدرت نہیں دی ( ۵۲)
اور وہ ایک ایک میں آپ ہی تصرف کرتا ہے کسی کو کسی کے قابو میںنہیں دیتا ( ۵۳)
جو کوئی کسی مخلوق کا عالم میں تصرف ثابت کرے اور اپنا وکیل سمجھ کر اس کو مانے سو اب اس پر شرک ثابت ہو جاتا ہے (۵۴)
حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی کا عقیدہ اس کے بالکل بر عکس تھا اگر وہ وہابیت کے علم بردار ہوتے تو ان کا بھی یہی عقیدہ ہو تا جس کا ذکر سطور بالا میں ہوا مگر حاشا وکلا ایسا ہر گز نہیں ۔ وہ تو سلسلہ نقشبندیہ کے شیخ تھے اورسلسلہ قادریہ کے شیخ حضرت سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی علیہ الرحمۃ والرضوان سے انہیں گہری عقیدت تھی اور وہ ان کی رو حانی عظمتوں کا دل سے اعتراف کرتے تھے ۔تصرف کے تعلق سے اپنے عقیدہ کا اظہار کرتے ہو ئے فر ماتے ہیں ۔
’’حضرت علی کے بعد اولیائے کرام اور اصحاب طرق کا سلسلہ چلتا ہے اور ان میںسب سے زیادہ قوی الاثر بزرگ جنہوں نے راہ جذب کو باحسن وجوہ طے کر کے نسبت اویسی کی اصل کی طرف رجوع کیا اور نہایت کامیابی کے ساتھ قدم رکھا وہ شیخ عبد القادر جیلانی کی ذات گرامی ہے اسی بنا پر آپ کے متعلق کہا گیا ہے کہ موصوف اپنی قبروں میں زندوں کی طرح تصرف کرتے ہیں