امام احمد رضا کا مقیاس ذہانت
-------------------- ڈاکٹر محمد مالک- ایم ،بی بی ایس ۔ڈیرہ غازی خان
نفسیات ( Psycholgy)وہ سائنسی علم ہے جو شعور ی یا لاشعوری اعمال کا مطالعہ کرتاہے ۔ مختلف ماہرین نفسیات نے مختلف انداز میں نفسیات پر بحث کی ہے ۔لیکن ایک بات مشترک ہے کہ نفسیات انسان کے شعور، ذہن ، کردار اور اعمال کے مطالعہ کا علم ہے یا یوں کہئے کہ نفسیات وہ علم ہے جس کے ذریعے انسان اپنی ذات کو پہچان سکتا ہے ۔ اپنی ذہنی استعداد کا اندازہ کر سکتاہے۔ اپنے کردار و عمل کا جائزہ لیتا ہے اس لئے زندگی میں ہر قدم پر علم نفسیات ہماری راہنمائی کرتا ہے۔ بلکہ صوفیائے کرام فرماتے ہیں :۔
من عرف نفسہ فقد عرف ربہ
ترجمہ :۔ جس نے اپنے آپ کو پہچانا اس نے اپنے رب کو پہچان لیا۔
ماہرین نفسیات کے بقول اپنے آپکو پہچاننے کیلئے ذہانت کی ضرورت ہے ۔
ذہانت کیا ہے ؟ ( ''What is Intelligence?'')
پنٹر کہتا ہے کہ ذہانت وہ قابلیت ہے جس کی مدد سے انسان زندگی کے تمام مواقع کا کامیابی سے سامنا کر سکتا ہے ۔
ٹیلیفورڈ کہتا ہے کہ ذہانت وہ شئے ہے جس کی پیمائش ذہنی آزما ئش کے ذریعہ کی جا سکتی ہے ۔
بینے(Bine)کہتا ہے کہ ذہانت سے مراد وہ قابلیت ہے جسکی مدد سے بہتر فیصلہ کیا جاسکتا ہے اسے بہتر طور پر سمجھا جا سکتا ہے اور بہتر طریقے سے استدلال کیا جا سکتا ہے۔
ذ ہا نت کی پیما ئش
( Measurement of Intelligence)
نفسیات کے بتدریج ارتقاء کے بعد ماہرین نے ذہانت کی پیمائش کے لئے بھی تحقیق شروع کی اور آزمائشوں (Tests)کے وہ طریقے بھی دریافت کئے جن کے ذریعے انسانی ذہانت کی پیمائش ممکن ہوسکے ۔ ان آزمائشوں کے ذریعے اب شرح ذہانت معلوم کرنا ممکن ہو گیا ہے ۔ جسے عام طور پر مقیاس ذہانت ؍ ذہانت نسبتی ؍ آئی ۔ کیو(Intelligence Qustient ) نفسیات دو قدرے مختلف علوم کا آمیزہ ہے۔(۱)فلسفہ جس نے اس کو بہت سے ابتدائی مسائل فراہم کئے اور (۲)علم الاعضاء (Physiology)جس نے اس کے لئے بہت سے ابتدائی طریقے کار تجویز کئے۔
فلاسفرز نے ہمیشہ ذہن کی ادراکی قوت میں دلچسپی لی ہے ۔ یعنی وہ قوتیں جو ذہنی جستجو سے تعلق رکھتی ہیں ،فکر و ادراک کا شعور عطا کرتی ہیں ۔
ابتداء میں ماہرین علم اعضاء کا خیال تھا کہ شاید دماغ یا جسم کے بناوٹ میں کوئی ایسی بات ہوتی ہے جو ذہنی قابلیت میں کمی یا بیشی کا سبب ہے لھٰذا بے حد ذہن ( Genius ) اور کند ذہن ( Mentally retarded ))افراد کے دماغ کو تول و چیرپھاڑ کر تجزیہ اور تحقیق کی گئی لیکن کوئی کار آمد نتیجہ بر آمد نہ ہو سکا ۔ بالآخر ۱۹۰۵ ء میں فرانس کے ماہر نفسیات بینے Binet)) اس مسئلے کا قابل فہم جواب پیش کیا اور کہا کہ ذہنی قابلیت و صلاحیت کی پیمائش ذہنی آزمائش کے ذریعے کی جا سکتی ہے ۔
۱۹۰۸ میں Binet)) اپنی پیش کردہ ٹیسٹ میں اصلاح کی اور بعد میں ان آزمائشوں کو عمر کے لحاظ سے ترتیب کیا۔ اس طریقے کا رکے ذریعے ذہنی عمر ؟( Mentalage)کی اصطلاح میں جنم لیا ۔
ذہنی عمر
(Mental Age)
ذہنی عمر سے مراد وہ عمر ہے جس کا تعین آزمائش میں کامیابی کے لحاظ سے کیا جاتا ہے مثلاً ۴ سال کی عمر کا بچہ اپنی عمر کے لئے تیار کردہ سوال نامہ کے صحیح جوابات دے دے تو اس کی ذہنی عمر ۴ سال ہے اور وہ بچہ جواب نہ دے سکے تو اس کی ذہنی عمر کم سمجھی جائے گی ۔ ہاں اگر ایک بچہ ذہین ہے تو اس کی ذہنی عمر (Mentelage)طبی عمر ( Chronological ) سے زیادہ ہو سکتی ہے ۔مثلاً ایک پانچ سال کی عمر کا بچہ آٹھ سال عمر کے بچے کے لئے بنائے ہوئے ٹیسٹ میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اس کی جسمانی عمر تو ۵ سال ہے مگر ذہنی عمر ۸ سال ہو گئی ۔
ذہنی برتری ( Mentel superiority )یا کم تری کے اظہار کا یہ طریقہ کئی وجوہ کی بنا پر بہتر نہیںہے ۔ مثلاً ۶ سالہ بچے کا ذہنی اعتبار سے ترقی یافتہ ( Advanced) ہونا شاذ و نادر ہوتا ہے ۵۰ ہزار میں سے بمشکل ایک بچہ اتنے غیر معمولی اور اعلیٰ ذہانت کا مالک ہو سکتا ہے۔لیکن۱۳ یا۱۴ سا ل کی عمر کے بچے کا ۶ سالہ ترقی یافتہ ہونا ایک غیر معمولی بات ہے اس طرح ایک زیادہ واضح پیمانے کی ضرورت ہے ۔ تجربات کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ اگر باربار بچوں کی ذہانت کی پیمائش کی جائے تو عمر میں اضافہ کے ساتھ ساتھ ذہنی عمر (Mental Age) کی ترقی یا تنزلی میں اضافہ ہوتا رہتا ہے جو بچہ ۶ سال کی عمر میں ذہنی عمر کے اعتبار سے ۶ سال برتر ہے تو ۸ سال کی عمر میں نسبتاً ۸ برس برترہوگا ۔ اس طرح جو چیز مسلسل باقی رہتی ہے وہ طبی عمر پر ذہنی عمر کا تناسب ہے، فرق نہیں اور یہی وہ تناسب ہے جسے اصطلاحاً مقیاسِ ذہانت (I.Q) کہتے ہیں ۔
(مقیاس ذہانت (Intellegence Qutient "I.Q") معلوم کرنے کا فارمولا:
سٹین فورڈ بینے ٹسٹ ( Stan Ford Binet)کہ بچے کی ذہنی عمر کو طبی عمر سے تقسیم کر کے ۱۰۰ سے ضرب دیا جائے تو اس بچے کا (I.Q) معلوم ہو جائے گا
آئی-کیو=ذہنی عمر ؍ طبی عمرx ۱۰۰
یا
I.Q = Mentel Age (MA )/
0 Chronological Age (CA )x10
فرض کیجئے کہ بچے کی طبعی عمر ۵ سال اور ذہنی عمر ۷ سال ہے فارمولے کی رو سے
I. Q =MA / CA X 100= 7 / 5 X 100 =140
تو آئی - کیو ۱۴۰ ہوگا اس کا برعکس اور بچے کی طبعی عمر ۱۲ سال ہو اور ذہنی عمر ۸ سال ہو تو فارمولے کی رو سے
I. Q =MA / CA X 100= 8/ 12 X 100=67
تو آئی۔ کیو ۶۷ ہوگا
الغرض انفرادی طور پر I.Qمعلوم کر لینے سے شعبہ کے انتخاب میںمدد ملتی ہے
آج کے ترقی یافتہ دور میں I.Q.نفسیاتی آزمائشوںمیںسب سے زیادہ مقبول اور اہمیت کا حامل ہے ۔ اور زندگی کے ہر شعبہ میں اس کے ذریعے رہنمائی حاصل کی جا سکتی ہے :۔
آئی کیو سکور ( I.Q SCORE)
(آئی کیو رینج صفر تا دو سو )؟
سٹین فورڈ بینے ٹسٹ کے مطابق I.Q. سکور کی درجہ بندی (Classification)یوں ہے :
classification
Approx % of population
I.Q. Range
Gifted
1.3
140 and Above
superior
3.1
130----139
8.2
120----129
High Average
18.1
110----119
Average
46.5
90----109
Low Average
14.5
80----89
Border line
5.6
70----79
Mentally Retarded (Mr)2
2.6
Below 70
(Assessing Intelligent)
ذہانت کی حقیقت اور تشکیل کے لئے مختلف ماہرین نفسیات نے مختلف نظریات پیش کئے اور یہ نظریات (Theories)اپنی نوعیت کے تھے ۔ یہاں پر صرف ان نظریات کے نام تحریر کئے جاتے ہیں۔
(A) Factor Theories of Intelligence:
(i) G-Factor Theory
(ii)Multi facator Theories
(iii) Hierachial Theory
(B) Process oriented Theories
of Intelligence:
(i) Piagets Theory
(ii) Bruner s Theory
(iii Information Processing Theory
ذہنی آزمائش
(Intelligence Test)
یونہی ذہنی آزمائش تو ذہنی آزمائش کے کئی ایک ٹسٹ موجود ہیں لیکن مشہور ٹسٹ درج ذیل ہیں۔
۱۔سٹیں فورڈ بینے ذہانت کا سکیل (Stanfird Binet Intelligence Scale)
ویشلر ٹسٹ
(wechsler Tests)
٭ (سٹیں فورڈ بینے ذہانت کا سکیل ) اس ٹسٹ کوبینے اور سائمن نے مل کر عمر کے لحاظ سے ترتیب دیا۔ ۱۹۱۲ء میں ولیم سٹرن (william stern)نے ذہنی عمر اور طبعی عمر کے تناسب کا نظریہ پیش کیا ۔ بعد میں ٹرمن(Terman)نے اس آزمائش میں نظر ثانی کی اور اسے تین ہزار بچوں پر آزمایا اور نتیجہ اخذ کیا کہ
(i)۔۱۳سال کی عمر تک طبعی اور ذہنی عمر میں ایک خاص نسبت ہے جو بعد میں قائم نہیں رہتی۔
(ii)ذہنی عمر بمقابلہ طبعی عمر کم بڑھتی ہے اور ۱۸سال کی عمر کے بعد ذہنی عمر نہیں بڑھتی ۔ اور عموماًمستقل رہتی ہے۔ گرچہ طبعی عمر بڑھتی رہتی ہے۔۱۹۳۷ء میں ٹرمن(Terman)اور ماڈاے میرل(Maud A Merril)نے مزید اصلاح کی اوراسے نئی شکل میں پیش کیا جس میں دوسال سے ابتدا کی گئی۔
اسی طرح ۱۹۶۰ء میں دوبارہ نظر ثانی ہوئی ۔ نمبر لگانے کاطریقہ بدل دیا گیا اور شماریاتی طریقہ استعمال کیا گیا۔
٭ویشلر آزمائشیں ۔(Wechler Tests)ویشلر نے لفظی اور کار کردگی آزمائشوں کو اکٹھاکیا اور اس طرح ترتیب دیا کہ بڑوں اور بچوں کے لئے الگ الگ آزمائشیں بنائیں ۔ جن کے یہاں پر صرف نام تحریر کئے جاتے ہیں
(i) ویشلری پیمانہ ذہانت بلغانWecshler Adult Intelligence scale (W.A.I.S)
(ii)ویشلری پیمانہ ذہانت بچگاں wechsler Intelligence Scale for Children(W.I.S.C)
(iii)ویشلری ماقبل مدرسہ اور ابتدائی پیمانہ ذہانت
Wechsler Pre-School and primary
scale of Intelligence (W.P.P.S.I)
آج کل یہ آزمائشیں ایک اور طریقہ پر مستعمل ہیں ؟کہ I.Q. Deviationکہلاتا ہے۔ یہ ایک قسم کا سٹینڈرڈ سکور ہے یعنی ایسا I.Q جو Standard Deviation Units کی شکل میں ظاہر کیا جاتا ہے مثلاً ویشلر ٹسٹ تین مختلف Deviation I.Q کا پتا دیتا ہے۔
(a)Verbal Sub-Tests
(b)Performance Sub-Tests
(c) Full Scale I.Q.
اس طریقئہ کار کو فارمولے کی روشنی میں یوں ظاہر کیا جاتا ہے۔
Standard Score= x-m/sd
Score)جبکہ ایکس (x)انفرادی سکورIndividual (ہے۔
mسے مراد اوسط(mean)ہے ۔اورSDسے مراد معیاری انحراف (Standard Deviation)ہے۔ واضح رہے کہ ماہرین شرح ذہانت صرف ایک ٹسٹ سے نہیں نکا لتے بلکہ ایک ٹسٹ سیریزکے ذریعے معلوم کرتے ہیں۔ ایک سیریز میں عموماً ۸ٹسٹ ہوتے ہیں اور ہر ٹسٹ میں ۴۰ سوال ، تمام ٹسٹ کے حاصل کردہ نمبروں کا اوسط نکالنے کے بعد ایک خاص جدول (Table)کے ذریعے شرح ذہانت معلوم کی جاتی ہے اور یوں وہبی بچے (Mentally Gifted)کا I.Qسکورسامنے آتا ہے۔
وہبی بچے
(Mentally Gifted/ Gifted Children)
مقیاس ذہانت چارٹ (I.Q Score)سے یہ ظاہر ہوتاہے کہ Extremens of Intelligenceمیں جس طرح ایک طرف ذہنی کم عمر والے بچے ہوتے ہیں تو اسی طرح دوسری طرف وہبی بچوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ میرا موضوع سخن انتہائی ذہین وفطین (وہبی) بچوں کی خصوصیات اور امت مسلم میں ایک عظیم مسلم سکالر کی مثال ، محفوظ ریکارڈ کی روشنی میں پیش کرنا ہے۔ تاریخ میں کئی شخصیتوں کے نام سنہرے حروف میں لکھے گئے ہیں ۔ چند شہرہ آفاق ہستیوں کے بچپن کے ریکارڈ محفوظ ہیں ان سے ان کی اعلیٰ ذہانت وفطانت کا اندازہ ہوسکتا ہے ۔ تو آئیے ماہرین نفسیات نے تجربات ومشاہدات کے بعد جو اعداد شمار(Bio-data)پیش کیئے ہیں اس کی روشنی میں چند خصوصیات کا جائزہ لیتے ہیں۔
۱- یہ بچے مضبوط کردار کے مالک ہوتے ہیں۔
۲- ایسا بچہ دس لاکھ میںایک ہوتا ہے۔
۳- یہ بچے مستقل مزاج ہوتے ہیں اور ان کے تخلیقی کام لائق تحسین ہوتے ہیں ۔
۴- یہ بچے اپنے ہمجولیوں (Peer Group)میں ہم آہنگ Adjustنہیں ہوپاتے ۔ کیونکہ ان کی ذہنی عمر کا معیار جسمانی عمر کے مقابلے میں کہیں بلند ہوتا ہے۔
۵-یہ بچے اپنے ہم عمر بچوں اور استاد کی نگاہ میں انتہائی منفرد ہوتے ہیں ۔ چنانچہ مارگن سائیکلوجی (Morgan Psychology) صفحہ 539پر لکھا ہے کہ حیرت انگیز I.Qسکور والے بچے اپنے ہم عمر بچوں اور استاد کی نگاہ میں Misfitاور Mis Understoodہوتے ہیں کیوںکہ ان کا I.Qپختہ عمر کے لوگوں کے معیار پر ہوتا ہے ۔ اس لئے اکثر اس موحول میں Adjust ہوجاتے ہیں۔
ایسے بچے اکثر اعلیٰ تعلیم یافتہ گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں چنانچہ Robert E.Silverman Psychology(فورتھ ایڈیشن )صفحہ 231پر لکھا ہے۔ کہ ’’وہبی ‘‘ (Gifted) بچوں کے والدین عام بچوں کے والدین سے زیادہ تعلیم یافتہ تھے۔
ماہر نفسیات لیتا ایس ہالنگ ورتھ (leta s Holling Worth)۱۸۸۶۔۱۹۳۹ نے ۱۳ بچوں کا مطالعہ کیا جن کا I.Q۱۸۰ یا اس سے زیادہ تھا۔ اس کاکہنا ہے کہ ایسا دس لاکھ میں ایک ہوتا ہے۔ اسی طرح دوسرے ماہرین نفسیات مثلاً ایل۔ ایم ٹرمین وغیرہ نے بھی وہبی بچوں کی خصوصیات پر روشنی ڈالی ہے۔ الغرض یہ بات ثابت ہوجاتی ہے ۔ کہ وہبی بچہ کی ذہنی عمر طبعی عمر سے کہیں زیادہ ہوتی ہے ۔ اس لئے بچپن میں اس سے محیر العقول کام سرزد ہوتے رہتے ہیں۔
L.M.Termanکہتاہے کہ تین سو مشہور آدمیوں کی زندگیوں کا مطالعہ ۳ماہرین نفسیات نے کیا ۔ اور جہاں کہیں ریکارڈ تسلی بخش نکلا اور ماہرین کا اتفاق ہوگیا وہاں I.Q معین ہوگیا(۳) ان ماہرین کا کہنا ہے کہ ان مشہور ہستیوں کا I.Qکافی اونچا تھا۔
گوئٹے جس نے ۸سا ل کی عمر میں لاطینی میں شعر کہناشروع کیا بچپن میں اس کا I.Q ۱۸۵ تھا، جوانی میں I.Q۲۰۰ تھا۔
ریاضی دان پاسکل (Pascal)کا I.Q۱۸۰۔
فرانسی ادیب والٹیر (Voltire)کاI.Q۱۷۵،امریکہ کے چھٹے پریذیڈینٹ جان قونسی ایڈمز (john Quincy Adams) کا I.Q۱۶۵تھا۔
I.Qکے بارے میں محققین (Researchers)اور ماہرین(Educators)کی تحقیقات کے مطابق:
فلاسفرز کا I.Q ۱۷۰
شاعروں کا اور ناول نویسوں کا I.Q۱۶۰
سائنسدانوں کا I.Q۱۵۵ہوتاہے۔
الحمد للہ میں مسلم مفکرین میںسے ایک ایسی ہستی کا محفوظ ریکارڈ پیش کرنے کی سعادت حاصل کرہاہوں ۔جوبیک وقت فلاسفر ، سائنسدان ، شاعر اور ادیب ،مدبر،سیاستدان،قائد سواد اعظم ،مجدد اسلام ،مترجم ،مفسر،محدث، مفتی، فقیہہ، عظیم ماہر تعلیم ،عظیم ماہر نفسیات،ماہراقتصادیات، عظیم ریاضی دان، عظیم ماہر فلکیات اور بے مثال شیخ طریقت ،الغرض جامع العلوم شخصیت ہے۔جس سے اس مفکر اسلام کی خدا داد ذہانت اور ایک ریکارڈ I.Qکا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ اس شہرئہ آفاق ہستی کا اسم گرامی امام احمد رضا خاں بریلوی رحمۃ اللہ علیہ ہے۔
یہاں یہ بات بھی واضح کرتا چلوں کہ علمی دنیا میں امام موصوف سے تقریباً پوری دنیا نے استفادہ کیا ۔بالخصوص ہند وپاک کے علاوہ براعظم ایشیاء،براعظم افریقہ،براعظم امریکہ اور حرمین شریفین کے مفتیان مذاہب اربعہ شامل ہیں ۔امام احمد رضا فتاویٰ رضویہ جلد چہارم ص۱۴۹ پررقمطراز ہیں:
’’فقیر کے یہاں علاوہ دیگر مشاغل کثیرہ دینیہ کے کارفتویٰ اس درجہ وافر ہے کہ دس مفتیوں کے کام سے زائد ہے۔شہر ودیگر بلاد وامصار،جملہ اقطار ہندوستان وبنگال ،پنجاب،ملیباروبرہما وارکان،چین، غزنی وامریکہ وافریقہ حتیٰ کہ سرکار حرمین محترمین سے استفتاء آتے ہیں اورایک وقت میں پانچ پانچ سو جمعہو جاتے ہیں ‘‘
(Gifted)آئی ۔کیو I.Qکی عظیم مثال :
اب تک ملکی وغیر ملکی ماہرین نفسیات کی کم وبیش جتنی کتب منظر عام پر ہیں ان میں اعلیٰ ذہانت کو پیش کرتے ہوئے غیر مسلم شخصیت کا نام اور ان کا آئی،کیو(I.Q)پیش کیا گیا ہے۔جبکہ مسلمان قاری کے دل میں مسلم مفکرین کے اعلیٰ I.Qکے بارے میں تجسس ہی رہاہے۔ میں ذہانت اور مقیاس ذہانت (I.Q)محفوظ ریکارڈ کی روشنی میں جامعیت کے ساتھ اس کی ابتداء کررہا ہوں جو محققین وماہرین نفسیات کے لئے دعوت فکر ہے اوراقبال کے شاہین کے لئے قابل فخر بھی ۔ تو آئیے ایک بین الاقوامی مسلم سکالر اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رحمہ اللہ علیہ کی حیرت ذہانت اور بے مثال I.Qکا محفوظ ریکارڈ کی روشنی میں جائزہ لیتے ہیں۔
امام احمد رضا بریلوی علیہ الرحمہ کی بے مثال ذہانت اور بے نظیر حافظے کے کمالات اتنے ہیں کہ انہیں بیان کرنے کے لئے دفتر چایئے ۔یہاں پر صرف چند واقعات پر اکتفا کیا جاتا ہے۔
تعلیم وتربیت:
ولادت ـ: امام احمد رضا خان کی ولادت ۱۰ شوال مکرم۱۲۷۲ھ بمطابق جون۱۸۵۶ء میں ہندوستان کے شہربریلی (یوپی) میں ہوئی ۔ والدین کی کمال شفقت اور اعلیٰ تعلیم وتربیت سے مستفید ہوئے۔
رسم بسم اللہ خوانی، فراست ایمانی:
امام احمد رضا کی بسم اللہ خوانی اور دینی تعلیم کا آغاز ڈھائی سال کی عمر میں ہوا۔ چنانچہ ڈاکٹر حسن رضا سیتا مڑھی اپنے پی،ایچ، ڈی مقالہ (فقہیہ اسلام ) کے صفحہ ۱۶۰ پر یوں رقمطراز ہیں(۴)
’’رواج کے مطابق امام احمد رضا کے جدامجد اور والد محترم (۵)نے ۱۲۷۵ھ کے اوائل میں بسم اللہ خوانی کی محفل سجائی اور اعلیٰ حضرت کا مکتب کرایا۔‘‘
امام احمد رضا کا بچپن پاکیزگی اور ذہانت وذکاوت میں ضرب المثل تھا۔ آپ عہد طفلی میں بھی یکتائے روز گار تھے۔
بسم اللہ خوانی کا عجیب واقعہ:
بسم اللہ خوانی کے وقت عجیب واقعہ پیش آیا ۔مناسب خیال کرتا ہوںکہ یہ واقعہ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے سابق صدر شعبئہ عربی اور ڈین فیکلٹی آف آرٹس پروفیسر ڈاکٹر مختار الدین احمد آرزو کی زبانی پیش کیا جائے ۔ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں:
دواستاد صاحب نے بسم اللہ کے بعد الف ،با،تا، ثا، جس طرح پڑھا یا جاتا ہے پڑھایا ۔ آپ پڑھتے رہے لیکن جب لام الف کی نوبت آئی تو آپ خاموش رہے ۔ استاد صاحب نے دوبارہ کہا، کہو میاں لام الف۔ آپ خاموش رہے۔ پھر فرمایا یہ دونوں تو پڑھ چکے ہیں ۔ ل بھی اور الف بھی ۔اب یہ دوبارہ کیوں ؟ اس وقت آپ کے جد امجد علامہ رضا علی خان موجود تھے۔ فرمایا بیٹا!استاد کا کہا مانو ۔ جو کہتے ہیں پڑھو آپ نے جد امجد کے حکم کی تعمیل فرمائی مگر ان کے چہرے کو تجسس کی نظر سے دیکھا۔ وہ فراست سے سمجھ گئے ۔ فرمایا بیٹا تمہارا خیال درست ہے۔ اور سمجھنا بجا ہے کہ حروف ’’ مفردہ‘‘ میں ایک ’’مرکب ‘‘ لفظ کیسے آیا ،مگر بات یہ ہے کہ شروع میں تم نے جو الف پڑھا ہے وہ در اصل ہمزہ ہے ۔ اور یہ در حقیقت الف ہے۔لیکن الف ہمیشہ ساکن ہوتا ہے ۔اور ساکن کے ساتھ ابتدا ناممکن ہے۔اس لئے ایک حرف یعنی لام اول میں لاکر اس کا تلفظ بنانا مقصود ہے۔ امام احمد رضا نے فرمایا تو کوئی ایک حرف ملا دینا کافی تھالام کی کیا خصوصیت ہے۔ با۔ دال۔ سین بھی اول میں لاسکتے تھے ۔ جد امجد نے نہایت محبت وجوش میں گلے لگایا ۔ دل سے دعائیں دیں اور پھر اس کی توجیہہ ارشاد فرمائی۔
آپ کے محفوظ ریکارڈ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ آپ بچپن میں کتاب کو ایک چوتھائی پڑھ کر باقی ساری کتاب خود پڑھ لیتے اور جسے ایک مرتبہ پڑھ لیتے وہ ازبر ہوجاتا تھا امام احمد رضا خان بریلوی ابتدائی تعلیم کا ذکر کرتے ہوئے خود فرماتے ہیں:
’’میرے استاد جن سے میں ابتدائی کتب پڑھتا تھا جب مجھے سبق پڑھا دیا کرتے ایک دو مرتبہ میں دیکھ کرکتاب بند کردیتا ۔ جب سبق سنتے توحرف بہ حرف ، لفظ بہ لفظ سنادیتا۔
روزانہ یہ حالت دیکھ کر سخت تعجب کرتے ۔ ایک دن مجھ سے فرمانے لگے:
احمد میاں یہ تو کہو تم آدمی ہویا جن۔ مجھ کوپڑھا تے دیر لگتی ہے مگر تم کو یاد کرتے دیر نہیں لگتی۔ امام احمد رضا نے فرمایا ۔ خدا کا شکر ہے کہ میں انسان ہی ہوں۔ بس اللہ کا فضل وکرم شامل حال ہے‘‘
عہد طفلی کا حیرت انگیز واقعہ
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی رحمہ اللہ علیہ نے علمی اور روحانی ماحول میں آنکھ کھولی۔ بچپن بڑے ناز ونعم میں گزرا۔ والدین کی کمال شفقت ، بہترین تعلیم وتربیت اور فیوض وبرکات سے مستفیض ہوئے ۔فطری طور پرذہین تھے اور حافظہ بلا کا قوی تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ امام احمد رضا کا عہد طفلی بھی طہارت نفس ،اتباع قرآن وسنت ، پاکیزہ اخلاق اور حسن سیرت کے اوصاف سے مزین تھا۔واقعہ یوں ہے:
تقریباً ساڑھے تین سال کی عمر تھی، ایک لمباکرتہ پہنے اپنے گھر سے باہر نکلے تھے کہ ایک گاڑی میں کچھ طوائفیں بیٹھی ہوئی کسی رئیس کے یہاں گانے بجانے جارہی تھیں ۔ ان کاسامنا ہوتے ہی فوراً اپنے کرتے کا دامن اٹھا کر آنکھوں پر رکھ لیا ۔طوائفیں ہنسنے لگیں ۔ ان میں سے ایک بولی واہ صاحبزادے ، آنکھوں کوچھپا لیا اور ستر کھول دیا۔ امام احمد رضا نے برجستہ ایسا نفیس اور سائنٹیفک جواب عہد طفلی میں دیا کہ بڑے بڑے ماہرین نفسیات سر دھنتے رہ جا ئیں۔ آپ فرماتے ہیں:
’’ جب نظر بہکتی ہے تب دل بہکتا ہے اور جب دل بہکتا ہے تو ستر بہکتاہے‘‘ یہ جواب سن کروہ طوائفیں سکتے میں آگئیں کہ یہ کوئی ساڑھے تین سال کا بچہ ہے یا ۶۰ سال کا ماہر نفسیات بول رہاہے۔
تبصرہ :پچھلے صفحات میں ہم نے نفسیات کے حوالے سے ذہنی عمر (Mental Age)اور مقیاس ذہانت(I.Q)پر تفصیلات سے بحث کی ہے اور I.Qکافارمولا بھی پیش کیا ہے۔اس فارمولے کی روشنی میں ہم مفکر اسلام امام احمد رضا خان بریلوی رحمت اللہ علیہ کے ان جامع الفاظ کاجائزہ لیتے ہیں جس سے ان کا ایک ریکارڈ I.Qثابت ہوتا ہے۔
آئی- کیو=ذہنی عمر/طبعی عمر ×۱۰۰ Mental=I.Q
Age/Chronological Age x 100
اس فارمولے کی روشنی میں وہبی بچے (Mentlly Gifted)کا آئی کیو چونکہ بلند ہوتا ہے اور یہ اس کی ذہنی عمر (Mental Age)کی نشاندہی کرتا ہے یعنی اگر طبعی عمر کم ہوتو ذہنی عمر کا معیار باشعور شخص کی سوچ کے معیار کو ثابت کرتا ہے ۔ لہذا امام احمد رضا کا کم سنی میں یہ جواب اعلیٰ ذہانت وفطانت اور یونیک (Unique) I.Qکی بہترین مثال ہے جسے نفسیات کی کتب میں جگہ دی جانی چاہیے۔
نفسیات تسویہ صفحہ نمبر ۱۰۰ پر پروفیسر ڈاکٹر سی۔ اے قادر لکھتا ہے:
’’گوئٹے جس نے آٹھ سال کی عمر میں لاطینی میں شعر کہنا شروع کیا بچپن میں ۱۸۵ آئی کیو رکھتا تھا۔ اور جوانی میں ۲۰۰‘‘
اسی کتاب کے صفحہ نمبر ۹۹ پر درج ہے کہ ’’جان سٹورٹ مل کے ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ مل ۳سال کی عمر (طبعی عمر)میںپڑھ لیتا تھا‘‘ اس حساب سے اس کی ذہانتی نسبت (I.Q)۲۰۰۔
اب ہم اسلامی تاریخ کے آفتاب اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کے ریکارڈ کا تفصیلی تجزیہ کرتے ہیں جس سے ان کا بے مثال آئی کیو (I.Q)ظاہر ہوتا ہے۔
٭ امام احمد رضا نے ڈھائی سال کی عمر میں قرآن پاک پڑھنا شروع کیا اور اسی عمر میں تعلیم کا آغاز کیا۔
٭ چار سال کی عمر میں قرآن پاک ناظرہ ختم کیا ۔ یقینا بچپن میں امام احمد رضا کا I.Q۲۰۰ ایک ریکارڈ I.Qہے محققین وماہرین کے سامنے امام احمد رضا کی عبقری (Genius)شخصیت مزید تحقیق وجستجو کے لئے پیش کی جاتی ہے۔
٭ چھ سال کی عمر میں ایک عظیم مجمع میں ماہ مبارک ربیع الاول میں میلاد پاک پڑھا اور دو گھنٹے علم وعرفان کے دریا بہائے۔
٭ دس سال کی عمر میں ’’ ہدایۃ النحو ‘‘ کی شرح بزبان عربی لکھی اور ۱۰ سال ہی کی عمر میں فقہ کی مشہور ومستند کتاب ’’ مسلم الثبوت ‘‘ پر حاشیہ لکھا۔
٭ تیرہ سال کی عمر میں عربی زبان میں ’’ضوء النہایہ فی اعلام الحمد و الھدایہ ‘‘ تصنیف فرمائی۔
٭ تیرہ سال دس ماہ اور ۵ دن کی عمر میں علوم درسیہ سے فراغت حاصل کی۔
٭ چودہ سال کی عمر میں مسند افتا پرمتمکن ہوئے اور مسئلہ رضاعت پر پہلا فتویٰ دیا۔
اور پھر تصنیفی کام مثلاً فتاویٰ نویسی ،صحا ح ستہ اور تفاسیر پر حاشیہ نگاری اور مختلف عقلی علوم وغیرہ پر تصنیفی کام مسلسل جاری رہا۔
ان کی تصنیف وتالیف کی ایک طویل فہرست ہے جس کا یہ مقالہ متقاضی نہیں ہے ۔ پھر یہ عبقری زماں لکھتے ہی چلے گئے بلکہ اتنا لکھا کہ قلم کو آپ کی مدت حیات میں استراحت نہ مل سکی۔ آپ نے مسلسل ۵۵ برس قلم کی جولانیاں دکھائیں اور ۷۰ سے زیادہ علوم وفنون میں ایک ہزار سے زائد تصانیف (عربی ،فارسی ، اردو زبان میں )تحریر فرمائیں ۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی کی خدا داد ذہانت اور محیر العقول واقعات تحریر کرنے سے پہلے پروفیسر ڈاکٹر چودھری عبد القادر کی تصنیف ’’ نفسیات تسویہ ‘‘Psychology of Adjustment)کی ایک عبارت پیش کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ تاکہ امام بریلوی کی پہلودار شخصیت مزید ابھر کر سامنے آسکے۔چنانچہ ’’ نفسیات تسویہ‘‘ ایڈیشن چہارم صفحہ نمبر ۱۰۰ پر لکھا ہے۔ نامور آدمیوں کے ریکارڈ ظاہر کرتے ہیں کہ جوانی میں انہوں نے تخلیقی کام کئے ۔ مثلاً بہترین شاعری ۲۵ اور۳۰ سال کی عمر میں لکھی گئی۔ کیمیا ،طبعیات اورایجادات کے لئے بہترین زمانہ ۳۰ اور ۳۵ سال کی عمر کا ہے۔ اس کے بعد دور انحطاط آجاتا ہے اور پرانے خیالات کو دہرایا جاتا ہے‘‘
مندرجہ بالا تحقیق سے پتہ چلتاہے کہ ۴۰ سال کی عمر کے بعد کا زمانہ انحطاط (ذہنی ) کا زمانہ ہے، لیکن جب ہم امام بریلوی کی شخصیت اور کارناموں کا جائزہلیتے ہیں تو بچپن ، جوانی اور ۴۰ سال کے بعد کا زمانہ بہتر سے بہتر ین علمی، تحقیقی اور تخلیقی دور کی نشاندہی کرتا ہے، اور دور انحطاط (ذہنی ) سے مستثنیٰ نظر آتا ہے۔ بلکہ ان کا آخری دور ان کی تصنیف وتالیف کا مصروف ترین دور تھا۔ ایک ایک دودو دن میں پورا رسالہ قلم بند کردیا جاتا۔چنانچہ قارئین کرام کی دلچسپی کے لئے امام بریلوی کی خدا داد ذہانت اور علمی تبحر کے چند واقعات پیش کئے جاتے ہیں۔
محدث بریلوی اور محدث سورتی
ایک مرتبہ امام احمد رضا پیلی بھیت تشریف لے گئے اور مولانا وصی احمد محدث سورتی (۸) کے یہاںمہمان ہوئے۔ اثنائے گفتگو ’’ عقود الدریہ فی تنقیح فتاویٰ الحامدیہ‘‘ (۹) کاذکر چل پڑا ۔حضرت محدث سورتی نے فرمایا کہ وہ کتاب میرے کتب خانہ میں ہے۔ محدث بریلوی نے اس وقت تک اسے نہیں دیکھا تھا۔ فرمایا ’’ جاتے وقت میرے ساتھ کردیجئے گا۔ ’’حضرت محدث سورتی نے کتاب لاکر آپ کی خدمت میں پیش کردی اور یہ بھی فرمایا کہ ’’ ملاحظہ فرمانے کے بعد بھیج دیجئے گا ۔ آپ کے پاس کتابیں بہت ہیں اور میرے پاس گنتی کی یہی چند کتابیں ہیں۔ جن سے فتویٰ دیا کرتا ہوں ‘‘۔حضرت محدث بریلوی کو اسی دن واپس آنا تھا مگر ایک جاں نثار مرید کی دعوت پر رکنا پڑا۔آپ نے رات میں ’’عقود الدریہ‘‘ کی دونوں ضخیم جلدوں کا مطالعہ فرمالیا۔لیکن ان جلدوں کو سامان میں رکھنے کی بجائے محدث سورتی صاحب کے یہاں بھیجوادی۔ اس واقعہ کے بعد محدث سورتی صاحب تشریف لائے اور عرض کیا کہ ’’ میری اتنی سی گذارش پر کہ’’ مطالعہ کے بعد کتاب واپس فرمادیں گے‘‘ آپ کو اتنا ملال ہوا کہ آپ کتاب ابھی واپس کررہے ہیں‘‘۔ حضرت محدث بریلوی نے فرمایا۔’’اگرکل ہی جانا ہوتا تو بریلی ساتھ لے جاتا ۔ لیکن جب رک گیاتو شب میں اور صبح میں پوری کتاب دیکھ ڈالی ۔اب لے جانے کی ضرورت نہیں ہے‘‘ محدث سورتی نے فرمایا کیا’’ایک مرتبہ دیکھ لینا کافی ہوگیا‘‘ حضرت محدث بریلوی نے فرمایا ‘‘ اللہ تبارک وتعالیٰ کے فضل وکرم سے امیدہے کہ دوتین مہینے جہاں کی عبارت چاہوں گا، فتاویٰ میںلکھ دوں گا اور مضمون تو انشاء اللہ عمر بھر کے لئے محفوظ ہوگیا۔
محدث بریلوی اور محدث کچھوچھوی
تحریک پاکستان کے صف اول کے رہنما علامہ سید محمد محدث کچھوچھوی ایک عجیب وغریب واقعہ اعلیٰ حضرت امام احمدرضا محدث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کی ذہانت اور خدا داد حافظہ کا یوں بیان فرماتے ہیں۔
’’میں نے حساب کی تعلیم اسکول میں پائی تھی۔ لہذا مجھے حساب دانی میں بڑی مہارت حاصل تھی ۔اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی علیہ الرحمہ حساب والے استفتاء حل کرنے کے لئے زیادہ تر میرے ہی سپر د فرمائے ۔ ایک مرتبہ ورثے کی تقسیم کے سلسلے میں پندرہ بطن کا مناسخہ آیا ۔ظاہر ہے کہ مورث اعلیٰ کی پندرہویں پشت میں درجنوں وارث ہوں گے۔ مجھے اس کے جواب میں دو راتیں اور ایک دن مسلسل محنت کرناپڑی۔ ایک ایک پیسے اور درجنوں وارثوں کاحق قلم بند کردیا ۔ عصر کی نماز کے بعد حسب معمول اعلیٰ حضرت محدث بریلوی کی خدمت میںجا بیٹھا تاکہ حساب کی مکمل تفصیل آپ سے عرض کردوں۔ اور آپ اصلاح کی ضرورت محسوس فرمائیں تو اصلاح کردیں۔ میں نے وہ استفتاء پڑھنا شروع کیا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ اعلیٰ حضرت محدث بریلوی سنتے سنتے اپنی انگلیوں کو بھی حرکت دے رہے ہیں۔ یہ استفتاء چونکہ پندرہ پشتوں کے درجنوں وارثوں کے حساب کتاب پر مبنی تھا اس لئے یہ فل اسکیپکے دو صفحات پر پھیلا ہوا تھا۔ میں نے یہ استفتاء یعنی سوال ہی پڑھ کر ختم کیا اور ابھی جواب میں تحریر کئیہوئے وارثوں کے حصے ظاہر نہ کئے تھے کہ اعلیٰ حضرت محدث بریلوی علیہ الرحمہ نے بلا توقف فرمانا شروع کیا۔ آپ نے فلاں کو اتنا، فلاں کو اتنا دیا۔ غرض درجنوں وارثوں کے نام اور ان کے حصے بتادیئے ۔ اب میں حیران وششدر تھا کہ مجھے اپنی حساب دانی پر اتنا ناز تھا۔ استفتاء کو میں نے اپنے طور پر بیس دفعہ پڑھا۔ہر ایک نام بار بار پڑھ کر ان کے حصے نکالے۔ اس کے باوجود مجھ سے کوئی ان سب وارثوں کے نام پوچھے تو حصے کجا میں نام بھی شاید پورے نہ بتا سکوں جب تک لکھے ہوئے سامنے نہ رکھوں ۔۔۔۔۔۔ اللہ اللہ یہ کیا تبحر ، کیسی وسعت ادراک اور کتنی عظیم خداداد ذہانت وصلاحیت تھی جو حق تعالیٰ کسی کسی کو عطا فرماتا ہے‘‘
اسی طرح انوار رضا میں ہے کہ امام احمد رضا مشکل سے مشکل فتاویٰ کا جواب اپنے شاگردوں اور احباب کو اس طرح قلم بند کراتے کہ حیرت ہوتی ۔بے شمار کتابوں کے حوالے اس سلسلے میں دیتے اور سب زبانی فرماتے ۔ الماری میں سے فلاں کتاب نکالو۔ اتنے ورق الٹ لو فلاں صفحہ پر اتنی سطروں کے بعد یہ مضمون ہوگا اسے نقل کردو غرض کہ ان کا حافظہ ،ذہانت اور دماغی باتیں عام لوگوں کی سمجھ سے باہر تھیں۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخاںبریلوی رحمۃ اللہ علیہ کا یہ فرمان بھی علمی تبحر اور ذہانت وذکاوت کا آئینہ دار ہے ۔ایک دفعہ آپ نے فرمایا کہ ’’ اللہ تعالیٰ نے مجھ سے میرے عمر سے دس گنا زیادہ کام لے لیاہے۔یہ اس کا انتہائی فضل وکرم ہے‘‘(۱۰)
خدا داد ذہانت اور علمی تبحر کا منفرد انداز ملاحظہ ہو چنانچہ انوار رضا میں لکھا ہے:
دار الافتا میں بیک وقت چار چار خطوط اور فتوے املا کراتے ، کاتب لکھتے جاتے ، سب کے مضامین الگ الگ ، سب کے دلائل الگ الگ ، سب کے ماخذ الگ الگ ، مگر کسی ایک کا تسلسل نہ ٹوٹتا اور سرعت فکر کا یہ عالم کہ چاروں کاتب فارغ نہ ہوتے پانچویں ورق کے لئے املا تیارہوتا‘‘
انوار رضا میں خدا داد حافظہ کے کمال کا ایک واقعہ یوں درج ہے۔
’’ ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ ایک استفتا آیا دار الافتا میں کام کرنیوالوں نے پڑھا اور ایسا معلوم ہوا کہ نئے قسم کا فتویٰ دریافت کیا گیا ہے اور جواب جزیہ کی شکل میں نہ مل سکے گا۔فقہا کرام کے اصول عامہ سے استنباط کرنا پڑیگا اعلیٰ حضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے عرض کیا عجیب نئے نئے قسم کے سوالات آرہے ہیں اب ہم لوگ کیا طریقہ اختیار کریں ۔ امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا یہ تو بڑا پرانا سوال ہے ابن ہمام نے فتح القدیر کے فلاں صفحہ میں ابن عابدین رد المختار کی فلاں جلد اور فلاں صفحہ پر فتاویٰ ہندیہ میں فتاویٰ خیریہ میں یہ عبارت صاف صاف موجود ہے اب جوکتابوںکو کھولا تو صفحہ ، سطر اور بتائی ہوئی عبارت میں ایک نقطہ کا فرق نہیں اس خدا داد ذہانت اور فضل وکمال نے علماء کو ہمیشہ حیرت میں رکھا۔
مندرجہ بالا چند واقعات کے بعدمفکر اسلام امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ کا جوانی میں ذہانت اور بے مثال مقیاس ذہانت I.Qکا اندازہ ہوگیا ہوگا۔
اب خدا داد ذہانت وفطانت کے تاریخی واقعات عمرکے آخری حصہ کے بیان کئے جاتے ہیں جن کو پڑھ کر یہ ثابت ہوتا ہے کہ آخری ایام میں بچپن اور جوانی کا مقیاس ذہانت I.Qبرقرار وبحال ہے جوا پنی مثال آپ ہیں ماہرین نفسیات کے لئے جہاں دعوت فکر ہے وہاں امت مسلم کے لئے قابل فخر بھی ہے۔
صرف ایک ماہ میں حفظ قرآن کیا
یہ وقعہ ۲۹ شعبان ۱۳۳۷ھ /۱۹۱۹ء کا ہے یعنی جب اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کی عمر۶۳برس تھی۔ ایک عریضہ آیا جس پر اعلیٰ حضرت کے القاب کے ساتھ حافظ لکھا ہواتھا امام احمد رضا اس وقت تک حافظ نہ تھے شیر بیشئہ اہلسنت مناظر اعظم مولانا حشمت علی خان صاحب کا بیان ہے کہ اس عریضے کو سنکر اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قبلہ کی چشمان مبار ک میں آنسو بھر آئے اور فرمانے لگے کہ میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ میرا حشر ان لوگوں میں نہ ہوجن کے حق میں قرآن حکیم میں آیا ہے۔
(یعنی) جب ان لوگوں کی تعریف میں ایسی خوبیاں بیان کی جاتی ہیں جو ان کے اندر نہیں تو وہ لوگ اپنی ایسی تعریف کو پسند کرتے ہیں ۔ ان کے لئے ہلاکت ہے)دوسرے دن سے قرآن پاک حفظ کرنا شروع فرمادیا جس کا وقت عشا کا وضو فرمانے کے بعد سے جماعت قائم ہونے تک مخصوص تھا۔ حفظ کرنے کا انوکھا انداز ملاحظہ ہو۔
مصنف بہار شریعت علامہ مولانا امجد علی خان صاحب (خلیفئہ اعلیٰ حضرت ) قرآن عظیم کی تلاوت فرماتے اورامام احمد رضا سماعت فرماتے جاتے پھر جماعت قائم ہوتی تھی اعلیٰ حضرت قبلہ جتنا قرآن سنتے تھے وہ سب تراویح میں سنادیتے ۔ کبھی ایک پارہ کبھی ڈیڑھ پارہ روزانہ یہی معمول رہا یہاں تک کہ رمضان المبارک کی ستائیسویں تاریخ کی نماز تراویح میں حفظ قرآن عظیم پورا کر لیا اور صرف ایک مہینے میں حافظ ہوگئے اور فرمایا ’’ الحمد اللہ ہم نے کلام پاک ترتیب کے ساتھ یاد کرلیا اور اس لئے کہ بندگان خدا کا مجھے حافظ کہنا غلط ثابت نہ ہو‘‘
حیرت انگیز بات یہ تھی کہ عشا کے وضو فرمانے کے بعد جماعت قائم ہونے تک کے مختصر سے وقت میں ہر روز پارہ ڈیڑھ پارہ صرف زبانی سن کر اور نماز تروایح میں سنانے کے باوجود مختلف فتاویٰ لکھنے ،مسائل شریعت اوراللہ ورسول جل جلا لہ و ﷺ کے فرامین مقدسہ سنانے وغیرہ روزانہ کے مشاغل دینیہ میں کسی قسم کا کوئی فرق نہیں پڑا۔(۱۲)
الغرض اعلیٰ حضرت اعلیٰ کرامت کا نمونہ ربانیہ ہیں جن کے بلند مقام کو بیان کرنے کے لئے اب تک ارباب لغت واصطلاح لفظ پانے سے عاجز رہے ہیں۔
زندگی کے آخری ایام اور خدا داد ذہانت کا بیان
وصال سے چند ماہ قبل رمضان المبارک کے روزے رکھنے کی غرض سے پہاڑی مقام بھوالی ضلع نینی تال تشریف لے گئے ،کچھ عرصہ قیام رہا۔ کتابیں پاس نہ تھیں پھر بھی رسائل بھی تحریر کئے اور فتاوی کے جوابات بھی دیتے رہے جن میں اصل کتابوں کے متون مع حوالے (ایک دو حوالے نہیں دس دس ،بیس بیس تیس تیس حوالے) تحریر فرمائے یہ سب کچھ اعلیٰ ذہانت اور بے پناہ قوت حافظہ کے زور پر تھا۔ الغرض عمر کے آخر حصہ میں بھی حافظہ کی خداداد صلاحیت اور بے مثال و لازوال مقیاس ذہانت I.Qبرقرار رہا۔
الغرض مندرجہ بالا ثبوت وواقعات امام احمد رضا بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کی ذہانت وذکاوت اور بے مثال آئی کیو I.Qکے لئے کافی سے زائد ہیں ۔
الغرض ماہرین ومحققین نفسیات کی کتابوں میں جتنے مغربی ذہین شخصیات کا تذکرہ اور ان کے کارنامے بیان کئے گئے ہیں ان سب میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کی عالمگیر اورتاریخ ساز شخصیت کو خداداد ذہانت اور بے مثال I.Qکے حوالے سے ممتاز ومسلم مقام حاصل ہے جس پر ان کا مندرجہ بالا محفوظ ریکارڈ شاہد عادل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کی لازوال وبے مثال علمی، دینی ، سائنسی خدمات عالم اسلام کے لئے قابل فخر ہیں اور ماہرین کے لئے دعوت فکر وعمل اوردرس تحقیق وجستجو ہیں۔
حواشی وحوالا جات
۱- ذہانت کا پہلا ٹسٹ ۱۹۰۵ء میں فرانس کے ماہرنفسیات الفرڈ بینے (Alfeerd Binet)نے اپنے معاون تھیورڈور سائمن(Theodore Simon)سے ملکر تیار کیا۔فرانس کی وزارت تعلیم نے ایک کمیشن قائم کیا ۔ بینے اس کمیشن کا ممبر تھا۔ اس کمیشن نے بینے کو اس کام پر مامور کیا کہ ناقص الذہن(Mentally Retardendبچوں کے لئے تعلیمی پروگرام مرتب کرے ۔ ان دونوں نے ملکر ذہنی آزمائش کے ٹسٹ بنائے جو انہیں سے موسوم ہیں۔ یہ ٹسٹ ۳۰ سوالات پر مشتمل تھے جو آسان سے بتدریج مشکل ہوتے جاتے تھے۔یہ ٹسٹ ۳ تا دس سال کی عمر تک تھے۔ راقم
۲-ذہنی کم عقلی کی درجہ بندیClassificationتین اقسام کی ہے۔
Education
I,MR
Trainable
Mild
Moderate
2,MR
Serve
Profound
Idiot < 25
Imbecile 25-49
3,MR
Morons 50-69
۳-Genetic Studies of Genius Vol II,(Stanford University Press 1926)
۴- امام احمد رضا کے والد گرامی علامہ نقی علی خان اور دادا جان علامہ رضا علی خان اپنے دور کے عظیم سکالر اور صاحب کمال بزرگ تھے۔ (راقم)
۵- الاجازۃ الرضویہ لمبجل مکۃ البھہ--- امام احمد رضابریلوی ص۳۰۹
۶-مدینہ منورہ سے مولانا سید حسین مدنی ابن سید عبد القادر شامی علم تکسیر کی تحصیل کے لئے امام احمد رضا کے پاس آئے ۔ ۱۴ مہینے دولت کدے پر قیام کیا۔ موصوف ہی کے لئے علم تکسیر میں یہ رسالہ لکھا۔
نوٹ :-اہل دانش اسی حیرت انگیز ذکاوت کی وجہ سے امام بریلوی کے لئے Super Genius Genius of the Eastاور Super Manجیسے الفاظ استعمال کرتے ہیں(راقم)
۷- حضرت محدث سورتی علیہ الرحمہ کے بارے میں مشہور ہے کہ اگرشبینہ میں بخاری شریف جائز ہوتی تو صرف
اس کا بقیہ ص ۲۱پر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
٭٭٭٭٭